Surah Yunus Ayat 11 (10:11)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْؕ-فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر اللہ لوگوں پرعذاب اسی طرح جلدی بھیج دیتا جس طرح وہ بھلائی جلدی طلب کرتے ہیں تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی تو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں۔
Tafseer (Urdu)
{لقضی الیهم اجلهم:تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی ۔} یعنی اگر اللہ تعالی لوگوں کی بددعائیں جیسے کہ وہ غصے کے وقت اپنے لئے اور اپنے اہل واولاد و مال کے لئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہوجائیں خدا ہمیں غارت کرے برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے اردو میں کوسنا کہتے ہیں اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کرلی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہوگئے ہوتے لیکن اللہ تعالی اپنے کرم سے دعا ئے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے اور دعائے بد کے قبول میں نہیں یہ اس کی رحمت ہے۔ شان نزول: نضر بن حارث نے کہا تھا: یارب !یہ دین اسلام اگر تیرے نزدیک حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ اگر اللہ تعالی کافروں کے لئے عذاب میں جلدی فرماتا جیسا کہ ان کیلئے مال و اولاد وغیرہ دنیا کی بھلائی دینے میں جلدی فرمائی تو وہ سب ہلاک ہوچکے ہوتے۔(خازن یونس تحت الایۃ: ۱۱ ۲ / ۳۰۳ ملخصا) خود کو اوراپنے بچوں وغیرہ کو کوسنے سے بچیں : اس ایت سے معلوم ہوا کہ ہماری تمام دعائیں قبول نہ ہونا بھی اللہ عزوجل کی رحمت ہے کہ ہم کبھی برائی کو بھلائی سمجھ لیتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غصہ میں اپنے کو یاا پنے بال بچوں کو کوسنا نہیں چاہیے ہر وقت رب تعالی سے خیر ہی مانگنی چاہئے نہ معلوم کو ن سی گھڑی قبولیت کی ہو اور بعض اوقات ایسے ہو بھی جاتا ہے کہ اولاد کیلئے بددعا کی اور وہ قبولیت کی گھڑی تھی جس کے نتیجے میں اولاد پر واقعی وہ مصیبت و افت اجاتی ہے جس کی بددعا کی ہوتی ہے۔ لہذا اس طرح کی چیزوں سے احتراز ہی کرنا چاہیے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ بواط کی جنگ میں گئے اپ مجدی بن عمرو جہنی کو تلاش کر رہے تھے ایک اونٹ پر ہم پانچ چھ اورسات ادمی باری باری سوار ہوتے تھے ایک انصاری اونٹ پر بیٹھنے لگا تو اس نے اونٹ کو بٹھایا پھر اس پر سوار ہو کر اسے چلانے لگا۔ اونٹ نے اس کے ساتھ کچھ سرکشی کی تو اس نے اونٹ کو کہا: شا اللہ تم پر لعنت کرے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے اس نے کہا:یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیہ میں ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’اس اونٹ سے اتر جاو اور ہمارے ساتھ ملعون جانور کو نہ رکھو تم اپنے اپ کو بد دعا دو نہ اپنی اولاد کو بد دعا دو اور نہ اپنے اموال کو بد دعا دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وہ گھڑی ہو جس میں اللہ تعالی سے کسی عطا کاسوال کیا جائے تو وہ دعا قبول ہوتی ہو۔ (مسلم کتاب الزہد والرقائق باب حدیث جابر الطویل وقصۃ ابی الیسر ص۱۶۰۴ الحدیث: ۳۰۰۹)