Surah Yunus Ayat 14 (10:14)
Jonah · Juz 11 · Makki
ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ثم جعلنكم خلىف فی الارض من بعدهم:پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین بنایا ۔} اس ایت میں خطاب اہل مکہ سے ہے جبکہ ایت کا معنی یہ ہے کہ اے لوگو! پھر ہم نے گزشتہ امتوں کے بعد جنہیں ہلاک کردیا گیا تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنایا۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۱۴ ۲ / ۳۰۵) سابقہ قوموں کے جانشین: علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ جس دن سے اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس سے لے کر قیامت تک ان کی امت میں مسلمان یا کافر جتنے لوگ ہوں گے سب زمین میں گزشتہ قوموں کے جانشین ہیں۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۱۴ ۳ / ۸۵۹) {لننظر كیف تعملون:تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو} یعنی تاکہ ہم تمہارے اعمال کا امتحان لیں کہ تم اچھے یا برے کیسے عمل کرتے ہو اور تمہارے اعمال کے مطابق تم سے معاملہ فرمائیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۱۴ ۲ / ۳۰۵) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بے شک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے اللہ تعالی نے تمہیں اس میں جانشین بنایا ہے پس وہ دیکھتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔( ترمذی کتاب الفتن باب ما اخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ بما ہو کائن الی یوم القیامۃ ۴ / ۸۱ الحدیث: ۲۱۹۸) اس ایت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالی کو پہلے علم نہیں تھا اور جب مشرکین عمل کر لیں گے تو اللہ تعالی کو علم ہو گا بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کے ساتھ ایسامعاملہ فرمائے گا جیسا امتحان لینے والا لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اللہ تعالی سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور اسے ہر چیز کا ہمیشہ سے علم ہے۔