Surah Yunus Ayat 21 (10:21)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَاؕ-قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًاؕ-اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہم لوگوں کو انہیں تکلیف پہنچنے کے بعد رحمت کا مزہ دیتے ہیں تو اسی وقت ان کا کام ہماری آیتوں کے بارے میں سازش کرنا ہوجاتا ہے ۔ تم فرماؤ: اللہ سب سے جلد خفیہ تدبیرفرمانے والا ہے۔بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکروفریب کو لکھ رہے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب کہ ہم آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ دانؤں چلتے ہیں تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا اذقنا الناس رحمة:اور جب ہم (کافر) لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں۔} اس ایت میں کفار کے اس قول ’’اس (نبی) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی (خاص قسم کی) نشانی کیوں نہیں اترتی ‘‘ کا ایک اور جواب دیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ا ہل مکہ پر اللہ تعالی نے قحط مسلط کیا جس کی مصیبت میں وہ سات برس گرفتار رہے یہاں تک کہ ہلاکت کے قریب پہنچے پھر اس نے رحم فرمایا بارش ہوئی زمینیں سرسبز ہوئیں تو اگرچہ اس تکلیف و راحت دونوں میں قدرت کی نشانیاں تھیں اور تکلیف کے بعد راحت بڑی عظیم نعمت تھی اور اس پر شکر لازم تھا مگر انہوں نے اس سے نصیحت حاصل نہ کی اور فساد و کفر کی طرف پلٹ گئے۔ (صاوی یونس تحت الایۃ: ۲۱ ۳ / ۸۶۱-۸۶۲ خازن یونس تحت الایۃ: ۲۱ ۲ / ۳۰۸ ملتقطا) رحمت کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرنااورافت کو منسوب نہ کرنابارگاہ الہی کا ایک ادب ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ رب عزوجل کی بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ رحمتوں کو اس کی طرف منسوب کیا جائے اور افات کو اس کی جانب منسوب نہ کیا جائے اور یہی اللہ تعالی کے نیک بندوں کا طرز عمل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے کافروں سے کلام کے دوران جب اللہ تعالی کی شان بیان فرمائی تو ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا : ’’و اذا مرضت فهو یشفین‘‘(شعراء:۸۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ {قل:تم فرماو۔} یعنی اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان سے فرما دیں کہ اللہ عزوجل انہیں بہت جلد سزا دینے والا ہے اوران کی سازشوں کی گرفت پر بہت زیادہ قادر ہے اور اس کا عذاب دیر نہیں کرتا۔ اور ارشاد فرمایا کہ بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر و فریب کو لکھ رہے ہیں اور تمہاری خفیہ تدبیریں کاتب اعمال فرشتوں پر بھی مخفی نہیں ہیں تو اللہ عزوجل علیم و خبیر سے کیسے چھپ سکتی ہیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۲۱ ۲ / ۳۰۸ مدارک یونس تحت الایۃ: ۲۱ ص۴۶۸ ملتقطا) کافروں پر بھی کراما کاتبین فرشتے مقرر ہیں : اس سے معلوم ہو ا کہ کراما کاتبین اعمال کفار پر بھی مقرر ہیں جو ان کے ہر قول و عمل کو لکھتے ہیں۔ البتہ گناہ لکھنے والا فرشتہ تو لکھتا رہتا ہے اور نیکیاں لکھنے والا فرشتہ اس پر گواہ رہتا ہے وہ کچھ نہیں لکھتا کیونکہ ان کی نیکی نیکی نہیں۔ (تفسیر روح البیان یونس تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۳۰)