Surah Yunus Ayat 31 (10:31)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَؕ-فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُۚ-فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: آسمان اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے؟یاکان اور آنکھوں کا مالک کون ہے؟ اور زندہ کو مردے سے اور مردے کو زندہ سے کون نکالتا ہے ؟ اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ تو اب کہیں گے : ’’ اللہ ‘‘ ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندے سے اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور ان ایتوں میں اللہ تعالی مشرکوں کے مذہب کے باطل ہونے اور اسلام کے حق ہونے کو واضح فرما رہا ہےچنانچہ اس ایت میں بیان فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان مشرکوں سے فرما دیں کہ آسمان سے بارش برسا کر اور زمین سے سبزہ اگا کر تمہیں کون روزی دیتا ہے تمہیں یہ حواس کس نے دئیے ہیں جن کے ذریعے تم سنتے اور دیکھتے ہوافات کی کثرت کے باوجود کان اور انکھ کو لمبے عرصے تک کون محفوظ رکھتا ہے حالانکہ یہ اتنے نازک ہیں کہ ذرا سی چیز انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور زندہ کو مردہ سے جیسے انسان کونطفہ سے پرندے کو انڈے سے کون نکالتا ہے اور یونہی مردہ کو زندہ سے جیسے نطفہ کو انسان سے اور انڈے کو پرندے سے کون نکالتا ہے اور ساری کائنات کے تمام کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے اپ کے سوالات سن کر وہ کہیں گے کہ بے شک ان چیزوں پر قدرت رکھنے والا اللہ عزوجل ہے ۔ جب وہ لوگ اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کا اعتراف کر لیں تواے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم ان سے فرماؤ : جب تم اللہ عزوجل کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہو تو بتوں کو عبادت میں اس کا شریک ٹھہرانے سے اور اللہ عزوجل کے عذاب سے ڈرتے کیوں نہیں حالانکہ بت نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان امور میں سے کسی پر کوئی قدرت رکھتے ہیں۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۳۱ ۲ / ۳۱۴ مدارک یونس تحت الایۃ: ۳۱ ص۴۷۲ ملتقطا)بلکہ الٹا ان کی عبادت تمہارا بیڑہ غرق کردے گی کہ شرک کے مرتکب ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے جہنم میں جاو گے۔ {فذلكم الله:تو یہ اللہ ہے۔} یعنی جو ان چیزوں کوسر انجام دیتاہے اور اسمان وزمین زندگی وموت سب کا مالک ہے اور رزق و عطا پر قدرت رکھتا ہے وہی اللہ عزوجل تمہارا سچا رب ہے وہی عبادت کا مستحق ہے نہ کہ یہ ناکارہ خود ساختہ بناوٹی بت اور جب ایسے واضح اور قطعی دلائل سے ثابت ہوگیا کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ عزوجل ہے تو اس کے ماسوا سب معبود باطل محض ہیں اور جب تم نے اس کی قدرت کو پہچان لیا اور اس کی کارسازی کا اعتراف کرلیا توپھر تم حق قبول کرنے سے کیوں اعراض کررہے ہو (خازن یونس تحت الایۃ: ۳۲ ۲ / ۳۱۴)