Surah Yunus Ayat 50 (10:50)
Jonah · Juz 11 · Makki
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: بھلا بتاؤ تو کہ اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کونسی چیز ہے جس کی مجرم جلدی مچا رہے ہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو اس میں وہ کونسی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قل ارءیتم:تم فرماؤ : بھلا بتاؤ تو۔} یعنی اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی قوم کے مشرکین سے فرما دیں کہ ذرا بتاؤ تو سہی کہ اگر اللہ عزوجل کا وہ عذاب جس کے نازل ہونے کی تم جلدی مچا رہے ہو تم پر رات میں اس وقت ائے جب تم غافل پڑے سو رہے ہو یا دن میں اس وقت ائے جب تم معاش کے کاموں میں مشغول ہو تو تمہاری تکلیف میں کیا فرق پڑے گا یعنی عذاب کا ہر حصہ عذاب ہے اور ہر وقت کا عذاب عذاب ہی ہے تو تمہارے لئے تو بہرحال مہلک ہے تو پھر تم اس کے جلدی وقوع کا مطالبہ کیوں کررہے ہو {اثم اذا ما وقع:تو کیا جب وہ (عذاب)واقع ہوجائے گا ۔} یعنی اگر اللہ عزوجل کا عذاب تم پر اجائے گا توکیا اس کے نازل ہونے کے بعد اللہ عزوجل پر ایمان لاو گے اس وقت کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا اور جب عذاب نازل ہونے کے بعد ایمان لائیں گے توان سے کہا جائے گا کہ تم اب ایمان لارہے ہوحالانکہ اس سے پہلے تو تم سر کشی اور استہزاء کے طور پر اس کی بڑی جلدی مچا رہے تھے۔(بیضاوی یونس تحت الایۃ: ۵۲۳ / ۲۰۲) {ثم قیل للذین ظلموا:پھر ظالموں سے کہا جائے گا۔} یعنی جن لوگوں نے اللہ عزوجل سے شرک اور کفر کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان سے کہا جائے گا: جس عذاب میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اس کا مزہ چکھو تم دنیا میں جو کفر اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرتے تھے یہ اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔ (خازن یونس تحت الایۃ: ۵۲ ۲ / ۳۱۹ مدارک یونس تحت الایۃ: ۵۲ ص۴۷۶ ملتقطا)