Surah Yunus Ayat 99 (10:99)
Jonah · Juz 11 · Makki
وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًاؕ-اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ 99
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر تمہارا رب چاہتا توجتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے توکیا تم لوگوں کومجبور کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں۔
Tafseer (Urdu)
{و لو شآء ربك:اور اگر تمہارا رب چاہتا۔} یعنی ایمان لانا سعادت ازلی پر موقوف ہے ایمان وہی لائیں گے جن کیلئے توفیق الہی شامل حال ہو اس ایت میں سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہ راست اختیار کریں لیکن اپ کی خواہش وکوشش کے باوجود بھی جو لوگ ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا آپ کو غم ہوتا ہے تواس کا آپ کو غم نہ ہونا چاہیے کیونکہ ازل سے جو شقی ہے وہ ایمان نہ لائے گا۔( خازن یونس تحت الایۃ: ۹۹ ۲ / ۳۳۶) {افانت تكره الناس:توکیا تم لوگوں کومجبور کرو گے۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کو یہ روا نہیں کہ لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور کریں کیونکہ ایمان تصدیق اور اقرار کا نام ہے اور کسی پر جبر اور زبر دستی کرنے سے تصدیق قلبی حاصل نہیں ہوتی۔ (مدارک یونس تحت الایۃ: ۹۹ ص۴۸۶)معلوم ہوا کہ کسی کو جبرا مسلمان بنانا درست نہیں اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’لا اكراه فی الدین‘‘ (البقرہ:۲۵۶) ترجمہ کنزالعرفان: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔