IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 11

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

الٓرٰ- كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ (1)

’’الر‘‘، یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھرانہیں حکمت والے، خبردار کی طرف سے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ (2)

کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو۔ بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈر اور خوشی کی خبریں دینے والا ہوں ۔

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗؕ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ(3)

اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کروتو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک بہت اچھا فائدہ دے گا اور ہر فضیلت والے کو اپنا فضل عطا فرمائے گا اور اگر تم منہ پھیرو تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں ۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(4)

اللہ ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے اور وہ ہر شے پر قادرہے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُؕ-اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْۙ-یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَۚ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(5)

سن لو! بیشک وہ لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں ۔سن لو! جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے ،بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَاؕ-كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(6)

اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو اور وہ ہرایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ۔ سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ لَىٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(7)

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (تمہیں پیدا کیا ) تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور اگر تم کہو: (اے لوگو!) تمہیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (قرآن) تو کھلا جادو ہے۔

وَ لَىٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗؕ-اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (8)

اور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کردیں تو ضرور کہیں گے : کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ خبردار! جس دن وہ عذاب ان پر آئے گا تو ان سے پھیرا نہیں جائے گا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی ان کو گھیرے ہوئے ہوگا۔

وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُۚ-اِنَّهٗ لَیَـٴُـوْسٌ كَفُوْرٌ(9)

اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں توبیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔

وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْؕ-اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ (10)

اور اگر ہم مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو اسے نعمت کا مزہ دیں تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں بیشک وہ (اس وقت) بہت خوش ہونے والا، فخر و تکبر کرنے والا ہوجاتا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(11)

مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآىٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌﭤ(12)

تو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے اور اس پرتمہارا دل اس وجہ سے تنگ ہوجائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترتا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آتا؟ تم تو ڈر سنانے والے ہو ، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(13)

کیا یہ کہتے ہیں : یہ قرآن نبی نے خود ہی بنالیا ہے۔ تم فرماؤ: (اگر یہ بات ہے ) تو تم (بھی) ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اگر تم سچے ہو تو اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلالو ۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(14)

تو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اتارا گیا ہے اور (جان لو) کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیااب تم مانو گے۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(15)

جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اور انہیں دنیا میں کچھ کم نہ دیا جائے گا۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(16)

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہوگیا اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗۚ-فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُۗ-اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(17)

تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر ایک گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہوجو پیشوا اور رحمت ہے ۔ وہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور تمام گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے توآگ اس کا وعدہ ہے۔ تو اے سننے والے!تجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہ ہو۔ بیشک یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ-اُولٰٓىٕكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْۚ-اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ (18)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہی دینے والے کہیں گے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔ خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاؕ-وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(19)

وہ جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں اور وہی لوگ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔

اُولٰٓىٕكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَۘ-یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُؕ-مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ(20)

وہ زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہیں اوراللہ کے سوا ان کے کوئی مددگار بھی نہیں ہیں ۔ ان کے لئے عذاب کو کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ وہ نہ تو سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(21)

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈال دیا اور ان سے ان کے بہتان گم ہوگئے۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ(22)

یہ لوگ لازمی طور پر آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْۙ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(23)

بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے اورانہوں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تو یہی لوگ جنتی ہیں ،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِؕ-هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًاؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ (24)

دونوں فریقوں کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔کیا ان دونوں کی حالت برابر ہے؟ تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے؟

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ٘-اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ (25)

اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے فرمایا) میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ۔

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ(26)

کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔بیشک میں تم پر ایک دردناک دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں ۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِۚ-وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ(27)

تو اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے : ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ہمارے سب سے کمینے لوگوں نے سرسری نظر دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے کرلی ہے اور ہم تمہارے لئے اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْؕ-اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ(28)

فرمایا: اے میری قوم!بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائی ہو پھر تم (خود ہی) اسے دیکھنے سے اندھے رہو تو کیا میں تمہیں اس (کوقبول کرنے) پر مجبور کروں حالانکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو؟

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰـكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ(29)

اور اے قوم! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا بیشک یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم لوگوں کو بالکل جاہل قوم سمجھتا ہوں ۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(30)

اور اے میری قوم! اگر میں انہیں دور کردوں تو مجھے اللہ سے کون بچائے گا ؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًاؕ-اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْۚۖ-اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ(31)

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں خود ہی غیب جان لیتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں ان غریب مسلمانوں کے بارے میں جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں یہ نہیں کہتا کہ اللہ ہرگز انہیں کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے ۔اگر میں ایسی بات کہوں تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں گا۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(32)

انہوں نے کہا: اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت زیادہ جھگڑا کرلیا ہے تو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی وعیدیں تم ہمیں دیتے رہتے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ(33)

۔( نوح نے) فرمایا: وہ عذاب تمہارے اوپر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکوگے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْؕ-هُوَ رَبُّكُمْ- وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَﭤ(34)

اور اگر میں تمہاری خیرخواہی کرنا چاہوں تو تب بھی میری نصیحت تمہیں نفع نہیں دے گی اگر اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ (35)

کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ اس نے خود ہی بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں نے بنا (بھی) لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے اور میں تمہارے جرم سے بیزار ہوں ۔

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىٕسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَﭕ(36)

اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے مسلمان ہوجانے والوں کے علاوہ کوئی اور (اب) مسلمان نہیں ہوگاتو تم اس پر غم نہ کھاؤ جو یہ کررہے ہیں ۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاۚ-اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ(37)

اور ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ اور (اب) ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ بیشک انہیں ضرور غرق کیا جائے گا۔

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ- وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُؕ-قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَﭤ(38)

اور نوح کشتی بناتے رہے اور ان کی قوم کے سرداروں میں سے جب کبھی کوئی ان کے پاس سے گزرتا تو ان کا مذاق اڑاتا۔ (نوح نے)فرمایا: اگر تم ہمارے اوپر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم بھی تم پر ایسے ہی ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(39)

تو عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کردے گا اور کس پر ہمیشہ رہنے والا عذاب اترتا ہے۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُۙ-قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَؕ-وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ(40)

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور اُبلنے لگا تو ہم نے فرمایا: ہر جنس میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا اور جن پر ( عذاب کی ) بات پہلے طے ہوچکی ہے ان کے سوا اپنے گھروالوں کو اور اہلِ ایمان کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(41)

اور ( نوح نے) فرمایا: اس میں سوار ہو جاؤ۔ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام پر ہے۔ بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ- وَ نَادٰى نُوْحُ-ﰳابْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ(42)

اور وہ کشتی انہیں پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان لے کر چل رہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس (کشتی) سے (باہر) ایک کنارے پر تھا : اے میرے بیٹے! تو ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِؕ-قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَۚ-وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ(43)

بیٹے نے کہا: میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ (نوح نے) فرمایا: آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر (وہی بچے گا) جس پر وہ رحم فرمادے اور ان کے درمیان میں لہرحائل ہوگئی تو وہ بھی غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَٛ (44)

اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوگیا اور وہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی اور فرما دیا گیا: ظالموں کے لئے دوری ہے۔

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ(45)

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا تو عرض کی: اے میرے رب! میرا بیٹا بھی تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ-اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﲦ فَلَا تَسْــٴَـلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(46)

۔ (اللہ نے) فرمایا: اے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں میں ہرگز نہیں، بیشک اس کا عمل اچھا نہیں ، پس تم مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرو جس کا تجھے علم نہیں ۔ میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ تو ان لوگوں میں سے نہ ہو جو جانتے نہیں ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْــٴَـلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(47)

عرض کی: اے میرے رب ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَؕ-وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(48)

فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے اس سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ کشتی سے اتر و جو تم پر اور تمہارے ساتھیوں کی جماعتوں پر ہیں اور کچھ جماعتیں ایسی ہیں جنہیں ہم فائدے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَۚ-مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا ﳍ فَاصْبِرْ ﳍ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ (49)

یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم انہیں جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم جانتی تھی تو تم صبر کرو بیشک اچھا انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ(50)

اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کوبھیجا۔ فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، تم تو صرف بہتان لگانے والے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(51)

اے میری قوم! میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ۔تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ(52)

اور اے میری قوم! تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی بارگاہ میں توبہ کرو تووہ تم پرموسلا دھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا اور تم مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ(53)

انہوں نے کہا: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے اور ہم صرف تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کرنے والے ہیں ۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ (54)

ہم توصرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تم پر کوئی برائی پہنچا دی ہے۔ (ہود نے) فرمایا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم سب (بھی) گواہ ہوجاؤ کہ میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ(55)

تم سب مل کر میرے اوپر داؤ چلاؤ پھر مجھے مہلت نہ دو۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْؕ-مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(56)

میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے جو میرا اور تمہارارب ہے ۔ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی پیشانی اس کے قبضہِ قدرت میں نہ ہو۔ بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْؕ-وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۚ-وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ(57)

پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں اُس کی تبلیغ کرچکا ہوں جس کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا اور میرا رب تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّاۚ-وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ(58)

اور جب ہمارا حکم آگیا توہم نے اپنی رحمت کے ساتھ ہود اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو بچالیا اور انہیں سخت عذاب سے نجات دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ ﳜ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ(59)

اور یہ عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے ۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْؕ-اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ (60)

اور اِس دنیا میں اور قیامت کے دن ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی۔ سن لو! بیشک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ۔ سن لو! ہود کی قوم عاد کے لئے دوری ہے۔

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(61)

اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کوبھیجا۔ فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی میں تمہیں آباد کیا تو اس سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو ۔ بیشک میرا رب قریب ہے ،دعا سننے والا ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ(62)

انہوں نے کہا: اے صا لح! اس سے پہلے تم ہمارے درمیان ایسے تھے کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں ۔ کیا تم ہمیں اُن کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے اور بیشک جس کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے تو ہم بڑے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ- فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ(63)

فرمایا: اے میری قوم! بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائی ہو تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اس سے کون بچائے گا ؟ تم نقصان پہنچانے کے سوا میراکچھ اور نہیں بڑھاؤ گے۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ(64)

اور اے میری قوم! یہ تمہارے لئے نشانی کے طور پر اللہ کی اونٹنی ہے تو اسے چھوڑ دو تاکہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی رہے اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ قریب کا عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ(65)

تو انہوں نے اس کے پاؤں کی پچھلی جانب کے اوپر والی ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں تو صا لح نے فرمایا: تم اپنے گھرو ں میں تین دن مزید فائدہ اٹھالو۔ یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِىٕذٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ(66)

پھر جب ہمارا حکم آیا توہم نے صا لح اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی رحمت کے ذریعے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بچالیا ۔ بیشک تمہارا رب بڑی قوت والا، غلبے والا ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ (67)

اور ظالموں کو چنگھاڑ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْؕ-اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ (68)

گویا وہ کبھی یہاں رہتے ہی نہ تھے۔ سن لو! بیشک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا۔ خبردار! لعنت ہو ثمود پر۔

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ(69)

اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے ۔انہوں نے ’’سلام‘‘ کہا تو ابراہیم نے ’’سلام‘‘ کہا۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍﭤ(70)

پھر جب دیکھا کہ ان (فرشتوں ) کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو ان سے وحشت ہوئی اور ان کی طرف سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا: آپ نہ ڈریں ۔بیشک ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔

وَ امْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(71)

اور ان کی بیوی (وہاں ) کھڑی تھی تو وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاؕ-اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ(72)

کہا: ہائے تعجب! کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا حالانکہ میں تو بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بہت زیادہ عمر کے ہیں ۔ بیشک یہ بڑی عجیب بات ہے۔

قَالُـوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِؕ-اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ(73)

فرشتوں نے کہا: کیا تم اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ بیشک وہی سب خوبیوں والا، عزت والا ہے۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍﭤ(74)

پھر جب ابراہیم سے خوف زائل ہوگیا اور اس کے پاس خوشخبری آگئی تو ہم سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ(75)

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والا ، بہت آہیں بھرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔

یٰۤـاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(76)

۔ (ہم نے فرمایا) اے ابراہیم ! اس بات سے کنارہ کشی کرلیجیے ، بیشک تیرے رب کا حکم آچکا ہے اور بیشک ان پرایسا عذاب آنے والا ہے جو پھیرا نہ جائے گا۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ(77)

اور جب لوط کے پاس ہمارے فرشتے آئے توان کی وجہ سے لوط غمگین ہوئے اور ان کا دل تنگ ہوا اور فرمانے لگے یہ بڑا سخت دن ہے۔

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِؕ-وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِؕ-قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْؕ-اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ(78)

اور ان کے پاس ان کی قوم دوڑتی ہوئی آئی اور وہ (لوگ) پہلے ہی سے برے کاموں کے عادی تھے۔ لوط نے فرمایا: اے میری قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاکیزہ ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی نیک کردار والانہیں ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّۚ-وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ(79)

انہوں نے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارے لئے کوئی حاجت نہیں اور تم ضرور جانتے ہو جو ہم چاہتے ہیں ۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ(80)

لوط نے فرمایا: اے کاش! تمہارے مدِمقابل میرے پاس کوئی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَؕ-اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْؕ-اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُؕ-اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ(81)

فرشتوں نے عرض کی: اے لوط! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ آپ تک ہر گز نہیں پہنچ سکیں گے تو آپ اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جائیں اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تیری بیوی کے۔ بیشک اسے بھی وہی (عذاب) پہنچنا ہے جو ان (کافروں ) کو پہنچے گا بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ؟

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ ﳔ مَّنْضُوْدٍۙ (82)

پھر جب ہمارا حکم آیا توہم نے اس بستی کے اوپرکے حصے کو اس کا نیچے کا حصہ کردیا اور اس پر لگاتار کنکر کے پتھر برسائے۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَؕ-وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ ٜ (83)

جن پر تیرے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے اور وہ پتھر ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ(84)

اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا :اے میری قوم !اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہاراکوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ بیشک میں تمہیں خوشحال دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(85)

اور اے میری قوم !انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوراکرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(86)

اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ-اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ(87)

۔ (قوم نے) کہا: اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں ۔ واہ بھئی! تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًاؕ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ-اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُؕ-وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ(88)

شعیب نے فرمایا: اے میری قوم! بھلا بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی ہو(تو میں کیوں نہ تمہیں سمجھاؤں ) اور میں نہیں چاہتا کہ جس بات سے میں تمہیں منع کرتا ہوں خود اس کے خلاف کرنے لگوں ، میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جتنی مجھ سے ہوسکے اور میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍؕ-وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ(89)

اور اے میری قوم! میری مخالفت تم سے یہ نہ کروا دے کہ تم پر بھی اسی طرح کا (عذاب) آپہنچے جو نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر آیا تھا اور لوط کی قوم تو تم سے کوئی دور بھی نہیں ہے۔

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ(90)

اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب بڑامہربان ،محبت والا ہے۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًاۚ-وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ٘-وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ(91)

انہوں نے کہا: اے شعیب! تمہاری زیادہ تر باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آرہیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے درمیان کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھروں سے مارتے اور تم ہمارے نزدیک کوئی معزز آدمی نہیں ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّاؕ-اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ(92)

شعیب نے فرمایا: اے میری قوم ! کیا تم پر میرے قبیلے کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا ہے بیشک میرا رب تمہارے تمام اعمال کو گھیرے ہوئے ہے۔

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌؕ-سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌؕ-وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ(93)

اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جا ؤ، میں اپنا کام کرتا ہوں ۔ عنقریب تم جان جاؤ گے کہ رسوا کردینے والا عذاب کس پر آتا ہے اور کون جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں ۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ (94)

اور جب ہمارا حکم آیا توہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ (95)

گویا وہ کبھی وہاں رہتے ہی نہ تھے۔ خبردار! دور ہوں مدین والے جیسے قومِ ثمود دور ہوئی۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ (96)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور روشن غلبے کے ساتھ بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَۚ-وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ(97)

فرعون اور ا س کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے فرعون کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا کام بالکل درست نہ تھا۔

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَؕ-وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ(98)

۔ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا پھر انہیں دوزخ میں لا اتارے گا اور وہ اترنے کا کیا ہی برا گھاٹ ہے۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ(99)

اوراس دنیا میں اور قیامت کے دن ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی۔ کیا ہی برا انعام ہے جو انہیں ملا۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآىٕمٌ وَّ حَصِیْدٌ(100)

یہ بستیوں کی خبریں ہیں جو ہم تمہیں سناتے ہیں ان میں سے کوئی ابھی قائم ہے اور کوئی کاٹ دی گئی۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰـكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَؕ-وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ(101)

اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تواللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آئے جب تیرے رب کا حکم آیا اور انہوں نے ان کے نقصان میں ہی اضافہ کیا۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(102)

اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(103)

بیشک اس میں اُس کیلئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے۔ وہ ایسا دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن ایسا ہے جس میں ساری مخلوق موجود ہوگی۔

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍﭤ(104)

اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(105)

جب وہ دن آئے گا توکوئی شخص اللہ کے حکم کے بغیر کلام نہ کرسکے گا تو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی خوش نصیب ہوگا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ (106)

تو جو بدبخت ہوں گے وہ تو دوزخ میں ہوں گے، وہ اس میں گدھے کی طرح چلائیں گے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(107)

وہ اس میں تب تک رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں گے مگر جو تمہارا رب چاہے بیشک تمہارا رب جو چاہتا ہے وہی کرنے والا ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ(108)

اور وہ جو خوش نصیب ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں گے مگر جو تمہارا رب چاہے یہ ایسی بخشش ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی ۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِؕ-مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُؕ-وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ (109)

تو ان بتوں کی عبادت کرنے والوں کے بارے میں شک میں نہ پڑنا۔ یہ ویسے ہی عبادت کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے باپ داداعبادت کیا کرتے تھے اور بیشک ہم انہیں ان کا پورا پوراحصہ دیں گے جس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ(110)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تواس میں اختلاف کیا گیا اوراگر تمہارے رب کی ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ لوگ اس کی طرف سے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں ۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْؕ-اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(111)

اور بیشک ان سب کو تمہارا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک وہ ان کے تمام اعمال سے خبردار ہے۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْاؕ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(112)

تو تم ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع کرنے والا ہے اور اے لوگو! تم سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(113)

اور ظالموں کی طرف نہ جھکوورنہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ (114)

اور دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم رکھو ۔بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ، یہ نصیحت ماننے والوں کیلئے نصیحت ہے۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(115)

اور صبر کرو کیونکہ اللہ نیکی کرنے والے کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(116)

توتم سے پہلی گزری ہوئی قوموں میں سے کچھ ایسے فضیلت والے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے منع کرتے البتہ ان میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ مجرم تھے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ(117)

اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کوبلا وجہ ہلاک کردے حالانکہ ان کے رہنے والے اچھے لوگ ہوں ۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ (118)

اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت بنادیتا اور لوگ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَؕ-وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ(119)

البتہ جن پر تمہارے رب نے رحم کیا اور اللہ نے انہیں اسی کے لئے پیدا فرمایا ہے اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ملا کربھر دوں گا۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ-وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(120)

اور رسولوں کی خبروں میں سے ہم سب تمہیں سناتے ہیں جس سے تمہا رے دل کو قوت دیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کے لئے وعظ و نصیحت (آئی)۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْؕ-اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ (121)

اور تم ایمان نہ لانے والوں سے فرماؤ : تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ ،ہم اپنا کام کرتے ہیں ۔

وَ انْتَظِرُوْاۚ-اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ(122)

اور تم انتظار کرو، بیشک ہم بھی منتظر ہیں ۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ (123)

اور آسمانوں اور زمین کے غیب اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف ہر کام لوٹایا جاتا ہے تو اس کی عبادت کرو اور اس پر بھروسہ رکھو اور تمہارا رب تمہارے کا موں سے غافل نہیں ۔