Surah Al Lahab Ayat 4 (111:4)
The Palm Fiber · Juz 30 · Makki
وَّ امْرَاَتُهٗؕ-حَمَّالَةَ الْحَطَبِ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس کی بیوی لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے والی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس کی جورو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے۔
Tafseer (Urdu)
{و امراته-حمالة الحطب: اور اس کی بیوی لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے والی ہے۔} ام جمیل بنت حرب بن امیہ ابوسفیان کی بہن جو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے نہایت عناد اورعداوت رکھتی تھی اور بہت دولتمند اور بڑے گھرانے کی عورت ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی عداوت میں اس انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ خود اپنے سر پر کانٹوں کا گٹھا لا کر رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے راستہ میں ڈالتی تاکہ حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اوراپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کو ایذا و تکلیف ہو اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی ایذا رسانی اس کو اتنی پیاری تھی کہ وہ اس کام میں کسی دوسرے سے مدد لینا بھی گوارا نہ کرتی تھی۔(بیضاوی المسد تحت الایۃ: ۴ ۵ / ۵۴۵ خازن ابولہب تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۴۲۵ ملتقطا) {فی جیدها حبل من مسد: اس کے گلے میں کھجور کی چھال کی رسی ہے ۔ } ام جمیل کے گلے میں کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رسی ہوتی جس سے وہ کانٹوں کا گٹھا باندھتی تھی ۔ایک دن یہ بوجھ اٹھا کر لارہی تھی کہ تھک کر آرام لینے کے لئے ایک پتھر پر بیٹھ گئی ایک فرشتے نے اللہ تعالی کے حکم سے اس کے پیچھے سے اس گٹھے کو کھینچا وہ گرا اورام جمیل کو رسی سے گلے میں پھانسی لگ گئی اور وہ مرگئی۔ (خازن ابو لہب تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۴۲۵) اس گستاخ خبیث نے دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھا اور اخرت میں بھی عذاب میں جائے گی۔ اخرت میں اگ کی زنجیریں اس کے گلے میں ہوں گی اور جہنم کی لکڑیوں کا گٹھا اس کی پشت پر لدا ہوا ہوگا۔