Surah 12
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓرٰ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِﭦ(1)
’’الر‘‘، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(2)
بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی نازل فرمایا تا کہ تم سمجھو۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ ﳓ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ(3)
ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اس کے ذریعے ہم تمہارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں اگرچہ اس سے پہلے تم یقینا اس سے بے خبر تھے۔
اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ(4)
یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا: اے میرے باپ! میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ، میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًاؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(5)
فرمایا: اے میرے بچے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے ۔بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَؕ-اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ (6)
اور اسی طرح تیرا رب تمہیں منتخب فرمالے گااور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اور یعقوب کے گھر والوں پراپنا احسان مکمل فرمائے گا جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی بیشک تیرا رب علم والا،حکمت والا ہے۔
لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآىٕلِیْنَ(7)
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعے) میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔
اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌؕ-اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ ﹰﭕ (8)
یاد کرو جب بھائی بولے :بیشک یوسف اور اس کا سگا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے والد کھلی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔
اقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ(9)
یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ تاکہ تمہارے باپ کاچہرہ تمہاری طرف ہی رہے اور اس کے بعد تم پھر نیک ہوجانا۔
قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ(10)
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: یوسف کو قتل نہ کرو اور اسے کسی تاریک کنویں میں ڈال دو کہ کوئی مسافر اسے اٹھالے جائے گا ۔ اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ(11)
بھائیوں نے کہا: اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم یقینااس کے خیر خواہ ہیں ۔
اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(12)
آپ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ پھل کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے محافظ ہیں ۔
قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ(13)
بیشک تمہارا اسے لے جانا مجھے غمگین کردے گا اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس کی طرف سے بے خبر ہوجاؤ۔
قَالُوْا لَىٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ(14)
انہوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے حالانکہ ہم ایک جماعت (موجود ) ہوں جب تو ہم کسی کام کے نہ ہوئے۔
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(15)
پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ اسے تاریک کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ تم ضرور انہیں ان کی یہ حرکت یاد دلاؤ گے اور اس وقت وہ جانتے نہ ہوں گے۔
وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَﭤ(16)
اور رات کے وقت اپنے باپ کے پاس وہ روتے ہوئے آئے۔
قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَٝ (17)
کہنے لگے: اے ہمارے باپ ! ہم دوڑکا مقابلہ کرتے (دور)چلے گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں ۔
وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ-قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(18)
اور وہ اس کے کر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ یعقوب نے فرمایا: بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے تو صبر اچھا اور تمہاری باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔
وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗؕ-قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌؕ-وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةًؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ(19)
اور ایک قافلہ آیا تو انہوں نے اپنا پانی لانے والا آدمی بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈالا ۔ اس پانی لانے والے نے کہا: کیسی خوشی کی بات ہے ،یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے سامانِ تجارت قرار دے کر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کررہے تھے۔
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ (20)
اور بھائیوں نے بہت کم قیمت چند درہموں کے بدلے میں اسے بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی۔
وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاؕ-وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ٘-وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِؕ-وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(21)
اور مصر کے جس شخص نے انہیں خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: انہیں عزت سے رکھو شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے یا ہم انہیں بیٹا بنالیں اور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں ٹھکانا دیا اور تاکہ ہم اسے باتوں کا انجام سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے۔
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(22)
اور جب یوسف بھر پور جوانی کی عمر کو پہنچے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔
وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(23)
اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اُس نے اُنہیں اُن کے نفس کے خلاف پھسلانے کی کوشش کی اور سب دروازے بند کردئیے اور کہنے لگی: آؤ ، (یہ) تم ہی سے کہہ رہی ہوں ۔ یوسف نے جواب دیا: (ایسے کام سے) اللہ کی پناہ۔ بیشک وہ مجھے خریدنے والا شخص میری پرورش کرنے والا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ بیشک زیادتی کرنے والے فلاح نہیں پاتے۔
وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖۚ-وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖؕ-كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَؕ-اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ(24)
اور بیشک عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اوراگروہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا تووہ بھی عورت کا ارادہ کرتا۔ ہم نے اسی طرح کیاتاکہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں ،بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے۔
وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ-قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(25)
اور وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے دروازے کے پاس عورت کے شوہر کو پایا تو عورت کہنے لگی۔ اس شخص کی کیا سزا ہے جو تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے ؟ یہی کہ اسے قید کردیا جائے یا دردناک سزا (دی جائے)۔
قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(26)
یوسف نے فرمایا: اسی نے میرے دل کو پھسلانے کی کوشش کی ہے اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر ان کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو پھر تو عورت سچی ہے اور یہ سچے نہیں ۔
وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(27)
اور اگر ان کا کر تا پیچھے سے چاک ہوا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے ہیں ۔
فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّؕ-اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ(28)
پھر جب عزیز نے اس کا کر تاپیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو کہا: بیشک یہ تم عورتوں کا مکر ہے۔ بیشک تمہارا مکر بہت بڑا ہے۔
یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاٚ-وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۚۖ-اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـٕیْنَ۠ (29)
اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ ۔بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔
وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖۚ-قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاؕ-اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(30)
اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے نوجوان کا دل لبھانے کی کوشش کرتی ہے، بیشک ان کی محبت اس کے دل میں سماگئی ہے، ہم تو اس عورت کو کھلی محبت میں گم دیکھ رہے ہیں ۔
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُ جْ عَلَیْهِنَّۚ-فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ(31)
تو جب اس عورت نے ان کی بات سنی تو ان عورتوں کی طرف پیغام بھیجااور ان کے لیے تکیہ لگا کر بیٹھنے کی نشستیں تیار کردیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دیدی اور یوسف سے کہا: ان کے سامنے نکل آئیے توجب عورتوں نے یوسف کو دیکھا تواس کی بڑائی پکار اُٹھیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اورپکار اٹھیں سُبْحَانَ اللہ ،یہ کوئی انسان نہیں ہے یہ تو کوئی بڑی عزت والا فرشتہ ہے۔
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِؕ-وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَؕ-وَ لَىٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ(32)
زلیخا نے کہا: تو یہ ہیں وہ جن کے بارے میں تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو اِنہوں نے اپنے آپ کو بچالیا اور بیشک اگر یہ وہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں ڈالے جائیں گے اور ضرور ذلت اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِۚ-وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ(33)
یوسف نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے اس کام کی بجائے قید خانہ پسند ہے جس کی طرف یہ مجھے بلارہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر وفریب نہ پھیرے گاتو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور میں نادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔
فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(34)
تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکروفریب پھیردیا، بیشک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔
ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ (35)
پھر سب نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی انہیں یہی سمجھ آئی کہ وہ ضرور ایک مدت تک کیلئے اسے قیدخانہ میں ڈال دیں ۔
وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِؕ-قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًاۚ-وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُؕ-نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(36)
اور یوسف کے ساتھ قیدخانے میں دو جوان بھی داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کررہا ہوں اور دوسرے نے کہا: میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے سر پر کچھ روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جن میں سے پرند ے کھا رہے ہیں ۔ (اے یوسف!) آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے۔ بیشک ہم آپ کو نیک آدمی دیکھتے ہیں۔
قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَاؕ-ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْؕ-اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(37)
فرمایا: تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے وہ تمہارے پاس نہیں آئے گا مگر یہ کہ اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے۔ بیشک میں نے ان لوگوں کے دین کونہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔
وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(38)
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین ہی کی پیروی کی۔ہمارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا ایک فضل ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُﭤ(39)
اے میرے قیدخانے کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب اچھے ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(40)
تم اس کے سوا صرف ایسے ناموں کی عبادت کرتے ہوجو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں ، اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم تو صرف اللہ کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو،یہ سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًاۚ-وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖؕ-قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِﭤ(41)
اے قید خانے کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو اسے سولی دی جائے گی پھر پرندے اس کا سر کھالیں گے ۔ اس کام کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کے بارے میں تم نے پوچھا تھا۔
وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ٘-فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ۠ (42)
اور یوسف نے جس کے بارے میں گمان کیا کہ ان دونوں میں سے وہ بچ جائے گا اسے فرمایا: اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرنا بھلادیا تو یوسف کئی برس اور جیل میں رہے۔
وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍؕ-یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ(43)
اور بادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں سات موٹی گائیں دیکھیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں اور دوسری خشک بالیاں دیکھیں ۔ اے درباریو! اگر تم خوابوں کی تعبیر جانتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں مجھے جواب دو۔
قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۚ-وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ(44)
انہوں نے کہا: یہ جھوٹے خواب ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔
وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ(45)
اور دو قیدیوں میں سے بچ جانے والے نے کہا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا: میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا، تم مجھے (یوسف کے پاس) بھیج دو۔
یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍۙ-لَّعَلِّیْۤ اَرْجِـعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ(46)
اے یوسف! اے صدیق! ہمیں ان سات موٹی گایوں کے بارے میں تعبیر بتائیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی تھیں اور سات سرسبز بالیوں اور دوسری خشک بالیوں کے بارے میں تاکہ میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں تاکہ وہ جان لیں ۔
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًاۚ-فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ(47)
یوسف نے فرمایا: تم سات سال تک لگاتار کھیتی باڑی کرو گے تو تم جو کاٹ لو اسے اس کی بالی کے اندر ہی رہنے دو سوائے اس تھوڑے سے غلے کے جو تم کھالو۔
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ(48)
پھر اس کے بعد سات برس سخت آئیں گے جو اس غلے کو کھا جائیں گے جو تم نے ان سالوں کے لیے پہلے جمع کر رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم بچالو گے۔
ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ (49)
پھر ان سات سالوں کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو بارش دی جائے گی اور اس میں رس نچوڑیں گے۔
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۚ-فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِـعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْــٴَـلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّؕ-اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ(50)
اور بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب ان کے پاس قاصد آیا تو یوسف نے فرمایا: اپنے بادشاہ کی طرف لوٹ جاؤ پھر اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے۔ بیشک میرا رب ان کے مکر کو جانتا ہے۔
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍؕ-قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْــٴٰـنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ٘-اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ(51)
بادشاہ نے کہا: اے عورتو! تمہارا کیا حال تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا۔ انہوں نے کہا: سُبْحَانَ اللہ ! ہم نے ان میں کوئی برائی نہیں پائی۔ عزیز کی عورت نے کہا: اب اصل بات کھل گئی۔ میں نے ہی ان کا دل لبھانا چاہا تھا اور بیشک وہ سچے ہیں۔
ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(52)
یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔
وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْۚ-اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْؕ-اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(53)
اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتابیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔
وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْۚ-فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ(54)
اور بادشاہ نے کہا: انہیں میرے پاس لے آؤ تاکہ میں انہیں اپنے لیے منتخب کرلوں پھر جب بادشاہ نے یوسف سے بات کی تو کہا۔ بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز،امانتدارہیں ۔
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(55)
یوسف نے فرمایا: مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو، بیشک میں حفاظت والا، علم والا ہوں۔
وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِۚ-یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُؕ-نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(56)
اور ایسے ہی ہم نے یوسف کو زمین میں اقتدار عطا فرمایا، اس میں جہاں چاہے رہائش اختیار کرے، ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں اور ہم نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ (57)
اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے۔
وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ(58)
اور یوسف کے بھائی آئے تو ان کے پاس حاضر ہوئے پس یوسف نے توانہیں پہچان لیا اور وہ بھائی ان سے انجان رہے۔
وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْۚ-اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(59)
اور جب یوسف نے ان کا سامان انہیں مہیا کردیا تو فرمایا کہ اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ، کیا تم یہ بات نہیں دیکھتے کہ میں ناپ مکمل کرتا ہوں اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں ۔
فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ(60)
تواگر تم اس بھائی کو میرے پاس نہیں لاؤ گے تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں اور نہ تم میرے قریب پھٹکنا۔
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ(61)
انہوں نے کہا: ہم اس کے باپ سے اس کے متعلق ضرور مطالبہ کریں گے اور بیشک ہم ضرور یہ کریں گے۔
وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(62)
اور یوسف نے اپنے غلاموں سے فرمایا: ان کی رقم (بھی) ان کی بوریوں میں واپس رکھ دو تاکہ جب یہ اپنے گھر واپس لوٹ کر جائیں تو اسے پہچان لیں تاکہ یہ واپس آئیں۔
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(63)
پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے تو کہنے لگے: اے ہمارے باپ! ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔
قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُؕ-فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا۪-وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(64)
یعقوب نے فرمایا: کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھاتو اللہ سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ہے۔
وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْؕ-قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْؕ-هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَاۚ-وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍؕ-ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ(65)
اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تواپنی رقم کو بھی موجود پایا کہ انہیں وہ رقم بھی واپس کردی گئی ہے۔ کہنے لگے : اے ہمارے باپ! اب ہمیں اور کیا چاہیے۔ یہ ہماری رقم ہے جوہمیں واپس کردی گئی ہے اورہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اورہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں ، یہ بہت آسان بوجھ ہے۔
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْۚ-فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ(66)
یعقوب نے فرمایا: میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللہ کا یہ عہد نہ دیدو کہ تم ضرور اسے (واپس) لے کر آؤ گے سوائے اس کے کہ تم (کسی بڑی مصیبت میں ) گھر جاؤ پھر انہوں نے یعقوب کو عہددیدیا تو یعقوب نے فرمایا: جو ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔
وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ-وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُۚ-وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ(67)
اور فرمایا: اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا، میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا ،حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْؕ-مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَاؕ-وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ (68)
اور جب وہ وہیں سے داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا، وہ انہیں اللہ سے کچھ بچا نہ سکتے تھے البتہ یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحب علم تھا کیونکہ ہم نے اسے تعلیم دی تھی مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىٕسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(69)
اور جب وہ سب بھائی یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے اپنے سگے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (اور) فرمایا: بیشک میں تیرا حقیقی بھائی ہوں تو اس پر غمگین نہ ہونا جو یہ کررہے ہیں ۔
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ(70)
پھر جب انہیں ان کا سامان مہیا کردیا تو اپنے بھائی کی بوری میں پیالہ رکھ دیا پھر ایک منادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو۔
قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ(71)
انہوں نے پکارنے والوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: کیاچیز تمہیں نہیں مل رہی؟
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ(72)
ندا کرنے والوں نے کہا: ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا اور جو اُسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) ہے اور میں اس کا ضامن ہوں۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ(73)
انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں ۔
قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ(74)
اعلان کرنے والوں نے کہا: اگر تم جھوٹے ہوئے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟
قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ(75)
انہوں نے کہا: اِس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں (وہ پیالہ ) ملے وہی خود اس کا بدلہ ہوگا ۔ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِؕ-كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَؕ-مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ-وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ(76)
تو حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی لینے سے پہلے دوسروں کی تلاشی لینا شروع کی پھر اس پیالے کو اپنے بھائی کے سامان سے نکال لیا ۔ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی تھی ۔بادشاہی قانون میں اس کیلئے درست نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جسے چاہتے ہیں درجوں بلند کردیتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔
قَالُـوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ-قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًاۚ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ(77)
بھائیوں نے کہا: اگراس نے چوری کی ہے تو بیشک اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں چھپارکھی اور ان پر ظاہر نہ کی (اور دل میں ) کہا تم انتہائی گھٹیا درجے کے آدمی ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم باتیں کررہے ہو۔
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(78)
انہوں نے کہا: اے عزیز! بیشک اس کے بہت بوڑھے والد ہیں تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کولے لیں، بیشک ہم آپ کواحسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں۔
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤۙ-اِنَّـاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ (79)
یوسف نے فرمایا: اللہ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں ۔ (ایسا کریں ) جب تو ہم ظالم ہوں گے۔
فَلَمَّا اسْتَایْــٴَـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّاؕ-قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَۚ-فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ(80)
پھر جب وہ بھائی اس سے مایوس ہوگئے تو ایک طرف جاکر سرگوشی میں مشورہ کرنے لگے۔ ان میں بڑا بھائی کہنے لگا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا اور اس سے پہلے تم یوسف کے حق میں کوتاہی کرچکے ہو تو میں تویہاں سے ہرگز نہ ہٹوں گا جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیدیں یا اللہ مجھے کوئی حکم فرما دے اور وہ سب سے بہتر حکم دینے والا ہے۔
اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَۚ-وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ(81)
تم اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم اتنی ہی بات کے گواہ ہیں جتنی ہمیں معلوم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے۔
وَ سْــٴَـلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَاؕ-وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(82)
اور اس شہر والوں سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے (معلوم کرلیں ) جس میں ہم واپس آئے ہیں اور بیشک ہم سچے ہیں ۔
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(83)
یعقوب نے فرمایا: بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لئے کچھ حیلہ بنادیا ہے تو عمدہ صبر ہے۔ عنقریب اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔
وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ(84)
اور یعقوب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا: ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور یعقوب کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں تو وہ (اپنا) غم برداشت کرتے رہے۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ(85)
بھائیوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ مرنے کے قریب ہوجائیں گے یا فوت ہی ہوجائیں گے۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(86)
یعقوب نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْــٴَـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(87)
اے بیٹو! تم جا ؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں۔
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ(88)
پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو کہنے لگے :اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی ہوئی ہے اور ہم حقیر سا سرمایہ لے کر آئے ہیں تو آپ ہمیں پورا ناپ دیدیجئے اور ہم پر کچھ خیرات بھی کیجئے، بیشک اللہ خیرات دینے والوں کو صلہ دیتا ہے۔
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ(89)
یوسف نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب تم نادان تھے۔
قَالُـوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُؕ-قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ٘-قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَاؕ-اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(90)
انہوں نے کہا: کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں ؟ فرمایا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـٕیْنَ(91)
انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاکار تھے۔
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(92)
فرمایا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔
اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًاۚ-وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ (93)
میرا یہ کرتا لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دینا وہ دیکھنے والے ہوجائیں گے اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آؤ۔
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(94)
اور جب قافلہ وہاں سے جدا ہواتو ان کے باپ نے فرما دیا: بیشک میں یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں ۔ اگرتم مجھے کم سمجھ نہ کہو ۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِٛ (95)
حاضرین نے کہا: اللہ کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی محبت میں گم ہیں۔
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًاۚ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ﳐ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(96)
پھر جب خوشخبری سنانے والا آیا تو اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈال دیا، اسی وقت وہ دیکھنے والے ہوگئے۔ یعقوب نے فرمایا: میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِـٕیْنَ(97)
بیٹوں نے کہا: اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے ،بیشک ہم خطاکار ہیں ۔
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(98)
فرمایا: عنقریب میں تمہارے لئے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، بیشک وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَﭤ(99)
پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے تواس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا: تم مصر میں داخل ہوجاؤ، اگر اللہ نے چاہا (تو) امن وامان کے ساتھ ۔
وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًاۚ-وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ٘-قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّاؕ-وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(100)
اوراس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے لیے سجدے میں گرگئے اور یوسف نے کہا: اے میرے باپ! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے، بیشک اسے میرے رب نے سچا کردیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کروادی تھی۔ بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے، بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔
رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِۚ-فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ- اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-تَـوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(101)
اے میرے رب! بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے خوابوں کی تعبیر نکالنا سکھادیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے! تو دنیا اور آخرت میں میرا مددگار ہے، مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور مجھے اپنے قرب کے لائق بندوں کے ساتھ شامل فرما۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَۚ-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ(102)
یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ سازش کررہے تھے۔
وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ(103)
اور اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ آپ کو کتنی ہی خواہش ہو۔
وَ مَا تَسْــٴَـلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ (104)
اور آپ اس (تبلیغ) پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتے۔ یہ تو سارے جہان کیلئے صرف نصیحت ہے۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ(105)
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی نشانیاں ہیں جن کے پاس سے گزرجاتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔
وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(106)
اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللہ پر یقین نہیں کرتے مگر شرک کرتے ہوئے۔
اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(107)
کیا وہ اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر اللہ کے عذاب سے چھاجانے والی مصیبت آجائے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ﱘ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ-وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(108)
تم فرماؤیہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔میں اور میری پیروی کرنے والے کامل بصیرت پر ہیں اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے اور میں شرک کرنے والا نہیں ہوں ۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰىؕ-اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْاؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(109)
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب شہروں کے رہنے والے مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے تو کیا یہ لوگ زمین پرنہیں چلے تاکہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوااور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے۔تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
حَتّٰۤى اِذَا اسْتَایْــٴَـسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُؕ-وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ(110)
یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا ہے تو اس وقت ان کے پاس ہماری مدد آگئی تو جسے ہم نے چاہا اسے بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا۔
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰـكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ (111)
بیشک ان رسولوں کی خبروں میں عقل مندوں کیلئے عبرت ہے ۔ یہ (قرآن) کوئی ایسی بات نہیں جو خود بنالی جائے لیکن (یہ قرآن) ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے تھیں اور یہ ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

