IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 13

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

الٓـمّٓرٰ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِؕ-وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(1)

’’المر‘‘، یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ-كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ(2)

اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر بلند کیا جنہیں تم دیکھ سکو پھراس نے عرش پر اِستوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو کام میں لگادیا ۔ ہر ایک، ایک مقرر کئے ہوئے وعدہ تک چلتا رہے گا، اللہ کام کی تدبیر فرماتا ہے، تفصیل سے نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًاؕ-وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(3)

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑاور نہریں بنائیں اور زمین میں ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے ، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ- وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(4)

اور زمین کے مختلف حصے ہیں جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتی اور کھجور کے درخت ہیں ایک جڑ سے اگے ہوئے اور الگ الگ اگے ہوئے ،سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر بناتے ہیں ، بیشک اس میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ﱟ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(5)

اور اگر تم تعجب کرو تو تعجب والی چیزتو ان کا یہ کہنا ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے بنائے جائیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں ،اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُؕ-وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْۚ-وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ(6)

اور رحمت سے پہلے تم سے عذاب کا جلدی مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک سزائیں گزر چکی ہیں اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم کے باوجود بھی انہیں ایک قسم کی معافی دینے والا ہے اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ (7)

اور کا فر کہتے ہیں : ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیو ں نہیں اتری ؟(اے حبیب!) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی ہو۔

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُؕ-وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ(8)

اللہ جانتا ہے جو ہرمادہ کے پیٹ میں ہے اور جو پیٹ کم اور زیادہ ہوتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ(9)

وہ ہر غیب اور ظاہر کو جاننے والا، سب سے بڑا، بلند شان والا ہے۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ(10)

برابر ہیں تم میں جو آہستہ بات کرے اور جوبلند آواز سے کہے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راستے پر چلتا ہے۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(11)

آدمی کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے بدل بدل کر باری باری آنے والے فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ۔ بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کوئی پھیرنے والا نہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ (12)

وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے اس حال میں کہ تم ڈرتے ہویا امید کرتے ہو اور وہ بھاری بادل پیدا فرماتا ہے۔

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖۚ-وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِۚ-وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِﭤ(13)

اور رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کے خوف سے فرشتے بھی (تسبیح کرتے ہیں ۔) اور وہ کڑک بھیجتا ہے تو اسے جس پر چاہتا ہے ڈال دیتا ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں اور وہ سخت پکڑنے والا ہے۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّؕ-وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖؕ-وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(14)

اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے حالانکہ وہ ہرگز اس تک نہ پہنچے گااور کافروں کا پکارنا گمراہی میں ہی ہے۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ ۩ (15)

اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خوشی سے، خواہ مجبور ہو کراللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے ہر صبح و شام۔

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلِ اللّٰهُؕ-قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّاؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ ﳔ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ ﳛ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْؕ-قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(16)

تم فرماؤ: آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ تم خود ہی فرما دو:’ ’اللہ ‘‘ تم فرما ؤ: تو (اے لوگو) کیا تم نے اس کے سوا مدد گار بنارکھے ہیں جواپنے لئے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ تم فرما ؤ: کیا اندھا اور آنکھ والابرابر ہوجائیں گے؟ یا کیا اندھیرے اورروشنی برابر ہوجائیں گے؟ یاکیا انہوں نے اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہرا لئے ہیں جنہوں نے اللہ کی تخلیق کی طرح کچھ پیدا کیا ہو؟ تو ان کافروں کوپیدا کرنے کا معاملہ ایک جیسا لگا ہو ۔تم فرما ؤ :اللہ ہر شےکا خالق ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًاؕ-وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ﱟ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ-وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَﭤ(17)

اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنی اپنی گنجائش کی بقدر بہہ نکلے تو پانی کی رَو اُس پر ابھرےہوئے جھاگ اٹھا لائی اور زیور یا کوئی دوسرا سامان بنانے کیلئے جس پروہ آگ دہکاتے ہیں اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں ۔ اللہ اسی طرح حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے تو جھاگ تو ضائع ہوجاتا ہے اور وہ (پانی) جو لوگوں کو فائدہ دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے ۔اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے ۔

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ-وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ ٜ (18)

جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰىؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ (19)

وہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جو اندھا ہے؟صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ (20)

وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو توڑتے نہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِﭤ(21)

اور وہ جواسے جوڑتے ہیں جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوفزدہ ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ (22)

اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ (23)

وہ ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں ان میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے جولائق ہوں گے اور ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس یہ کہتے آئیں گے۔

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِﭤ(24)

تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(25)

اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ (26)

اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور کا فر دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَﭕ(27)

اور کافر کہتے ہیں : ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ تم فرماؤ: بیشک اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اسے اپنی راہ دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتاہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُﭤ(28)

۔(ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے) جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ(29)

وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کیلئے خوشی اور اچھا انجام ہے ۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِؕ-قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ(30)

اسی طرح ہم نے تمہیں اس امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر گئیں تاکہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے حالانکہ وہ رحمٰن کے منکر ہورہے ہیں۔ تم فرماؤ : وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰىؕ-بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًاؕ-اَفَلَمْ یَایْــٴَـسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ (31)

اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے باتیں کی جاتیں (جب بھی یہ کافر نہ مانتے) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں تو کیا مسلمان اس بات سے ناامید نہ ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت دیدیتا اور کافروں کو ان کے عمل کی وجہ سے ہمیشہ ہلا دینے والی مصیبت پہنچتی رہے گی یا آپ ان کے گھروں کے نزدیک اتریں گے یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ- فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ(32)

اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑلیا تو میرا عذاب کیسا تھا؟

اَفَمَنْ هُوَ قَآىٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْۚ-وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَؕ-قُلْ سَمُّوْهُمْؕ-اَمْ تُنَبِّــٴُـوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِؕ-بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(33)

تو کیا وہ خدا جو ہر شخص پر اس کے اعمال کی نگرانی رکھتا ہے (وہ بتوں جیسا ہے؟ ہرگز نہیں) اور وہ لوگ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں ۔تم فرماؤ: تم ان کا نام تو لو (کہ وہ کون ہیں جو خدا کے شریک ہیں)بلکہ تم اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جسے وہ زمین میں جانتا ہی نہیں ہے، یا یونہی ایک اوپری بات بلکہ کافروں کیلئے ان کا فریب خوشنما بنا دیا گیا اور انہیں راستے سے روک دیا گیا اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ(34)

ان کیلئے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے اور آخرت کا عذاب یقینا زیادہ سخت ہے اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اُكُلُهَا دَآىٕمٌ وَّ ظِلُّهَاؕ-تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ﳓ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ(35)

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہیں ، اس کے پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗؕ-قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖؕ-اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ(36)

اور جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس پر خوش ہوتے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان گروہوں میں کچھ وہ ہیں جو اس قرآن کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں۔ تم فرماؤ :مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں ، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّاؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ (37)

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی فیصلے کی صورت میں اتارا اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گااس کے بعد کہ تیرے پاس علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ-وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ(38)

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور بچے بنائے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی نشانی لے آئے ۔ ہر وعدے کیلئے ایک لکھی ہوئی (مدت) ہے۔

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(39)

اللہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ(40)

اور (اے حبیب!) اگر ہم تمہیں کوئی وعدہ دکھا د یں جو ہم ان سے کررہے ہیں یاہم تمہیں پہلے ہی وفات دیدیں تو آپ پر توبہرحال تبلیغ کرنا لازم ہے اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ-وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖؕ-وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(41)

کیایہ کافر دیکھتے نہیں کہ ہم ہر طرف سے ان کی زمین کم کر رہے ہیں اور اللہ حکم فرماتا ہے، اس کے حکم کو کوئی پیچھے کرنے والا نہیں اور وہ بہت جلد حساب لے لیتا ہے۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًاؕ -یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍؕ- وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ(42)

اور ان سے پہلے لوگ فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔وہ جانتا ہے جو کچھ کوئی جان عمل کمائے اور عنقریب کافر جان لیں گے کہ آخرت کا اچھا انجام کس کے لئے ہے؟۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًاؕ-قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ (43)

اور کافر کہتے ہیں : تم رسول نہیں ہو۔ تم فرماؤ: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور ہر وہ آدمی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔