IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 14

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

الٓرٰ- كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ (1)

’’الر‘‘، یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے اجالے کی طرف،اس (اللہ ) کے راستے کی طرف نکالو جو عزت والا ،سب خوبیوں والا ہے۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِﹰۙ (2)

اللہ جس کی ملکیت میں ہر وہ چیز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور کافروں کیلئے ایک سخت عذاب کی خرابی ہے ۔

الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(3)

جو آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ-فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(4)

اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان کے ساتھ ہی بھیجا تاکہ وہ انہیں واضح کرکے بتادے ، پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہ دکھاتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی عزت والا، حکمت والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِ جْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(5)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ اور انہیں اللہ کے دن یا د دلاؤ۔ بیشک اس میں ہر بڑے صبرکرنے والے ،شکر گزار کیلئے نشانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ (6)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بری سزا دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(7)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ(8)

اور موسیٰ نے فرمایا: (اے لوگو!) اگر تم اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب ناشکرے ہوجاؤتو بیشک اللہ بے پرواہ ،خوبیوں والا ہے۔

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ ﲣ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ﳍ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُؕ-جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍٝ (9)

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے جنہیں اللہ ہی جانتا ہے۔ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر تشریف لائے تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لے گئے اورکہنے لگے : ہم اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے اور بیشک جس راہ کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے ہم دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاؕ-تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(10)

ان کے رسولوں نے فرمایا: کیااس اللہ کے بارے میں شک ہے جوآسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور ایک مقررہ مدت تک تمہیں مہلت دے۔ انہوں نے کہا: تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو،تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان سے روک دو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں تو تم کوئی واضح دلیل لے کر آؤ۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(11)

ان کے رسولوں نے ان سے فرمایا: ہم تمہارے جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر کوئی دلیل تمہارے پاس لے آئیں اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَاؕ-وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَاؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ (12)

اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے تو ہمیں ہماری راہیں دکھائی ہیں اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاؕ-فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ (13)

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم ضرور تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ تو ان رسولوں کی طرف ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ(14)

اور ضرور ہم ان کے بعد تمہیں زمین میں اِقتدار دیں گے ۔یہ اس کیلئے ہے جو میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے خوفزدہ رہے۔

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ (15)

اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا کام ہوگیا۔

مِّنْ وَّرَآىٕهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ (16)

جہنم اس کے پیچھے ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ(17)

بڑی مشکل سے اس کے تھوڑے تھوڑے گھونٹ لے گا اور ایسا لگے گا نہیں کہ اسے گلے سے اتار لے اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(18)

اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال راکھ کی طرح ہوں گے جس پر آندھی کے دن میں تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں میں سے کسی شے پر بھی قادر نہ رہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ-اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ (19)

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے۔وہ اگر چاہے تو اے لوگو! تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ(20)

اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں۔

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْؕ-سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ (21)

اور سب اللہ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے بڑے لوگوں سے کہیں گے: ہم تمہارے تابع تھے توکیا تم اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو۔وہ کہیں گے: اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیدیتے۔ (اب) ہم پر برابر ہے کہ بے قراری کا اظہار کریں یا صبرکریں ۔ہمارے لئے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں۔

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْؕ-وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْۚ-فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّؕ-اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُؕ-اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(22)

اور جب فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان کہے گا:بیشک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھاوہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور مجھے تم پر کوئی زبردستی نہیں تھی مگر یہی کہ میں نے تمہیں بلایا توتم نے میری مان لی تو اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو ۔نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں اور نہ ہی تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو۔ وہ جو پہلے تم نے مجھے (اللہ کا) شریک بنایاتھا تومیں اس شرک سے سخت بیزار ہوں ۔ بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْؕ-تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ(23)

اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے، وہاں اُن کی ملاقات کی دعا، سلام ہے۔

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ (24)

کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے کلمہ پاک کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو جس کی جڑقائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوں ۔

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَاؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(25)

ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں ۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ ﹰ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ(26)

اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں۔

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ ﳜ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ (27)

اللہ ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت رکھتا ہے اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ (28)

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر اتارڈالا۔

جَهَنَّمَۚ-یَصْلَوْنَهَاؕ-وَ بِئْسَ الْقَرَارُ(29)

جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوں گے اور وہ کیا ہی ٹھہرنے کی بری جگہ ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ(30)

اور انہوں نے اللہ کے لیے برابر والے قرار دئیے تاکہ اس کی راہ سے بھٹکا دیں ، تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو پھر بیشک تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ(31)

میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی تجارت ہوگی اور نہ دوستی۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ (32)

اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے تمہارے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالے اور کشتیوں کوتمہارے قابو میں دیدیا تا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے اور دریا تمہارے قابو میں دیدئیے۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىٕبَیْنِۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ (33)

اور تمہارے لیے سورج اور چاندکو کام پر لگادیا جو برابر چل رہے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کومسخر کردیا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُؕ-وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ (34)

اور اس نے تمہیں وہ بھی بہت کچھ دیدیا جو تم نے اس سے مانگا اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو توانہیں شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ظالم ناشکرا ہے ۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَﭤ(35)

اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(36)

اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ -رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ(37)

اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرماتاکہ وہ شکر گزار ہوجائیں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُؕ- وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ(38)

اے ہمارے رب! تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر زمین اور آسمان میں کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(39)

تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل و اسحاق دئیے۔ بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ(40)

اے میرے رب! مجھے اور کچھ میری اولاد کونماز قائم کرنے والا رکھ، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ (41)

اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ (42)

اور (اے سننے والے!)ہرگز اللہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں ۔ اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْۚ -وَ اَفْـٕدَتُهُمْ هَوَآءٌﭤ(43)

لوگ بے تحاشا اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے دوڑتے جارہے ہوں گے، ان کی پلک بھی ان کی طرف نہیں لوٹ رہی ہوگی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ- نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَؕ- اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ (44)

اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤجب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم کہیں گے: اے ہمارے رب! تھوڑی دیر تک ہمیں مہلت دیدے تا کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور رسولوں کی غلامی کرلیں ۔(کہا جائے گا ، اے کافرو!) تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے کہ تمہیں (تودنیا سے) ہٹنا ہی نہیں ۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ(45)

اور تم ان کے گھروں میں رہے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھااور تمہارے لئے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بیان کیں ۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْؕ- وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ(46)

اور بیشک انہوں نے اپنی سازش کی اور ان کی سازش اللہ کے قابو میں تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗؕ- اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍﭤ(47)

تو تم ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ بیشک اللہ غالب بدلہ لینے والاہے۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(48)

یاد کروجس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور تمام لوگ ایک اللہ کے حضور نکل کھڑے ہوں گے جو سب پر غالب ہے۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ (49)

اور اس دن تم مجرموں کو بیڑیوں میں ایک دوسرے سے بندھا ہوا دیکھو گے ۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ (50)

ان کے کرتے تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آ گ ڈھانپ لے گی۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْؕ- اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(51)

تاکہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ (52)

یہ لوگوں کیلئے تبلیغ ہے اور اس لیے کہ انہیں اس کے ذریعے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں ۔