Surah Al Hijr Ayat 41 (15:41)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ نے فرمایا: یہ میری طرف آنے والا سیدھا راستہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا یہ راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال:اللہ نے فرمایا۔}مفسرین نے اس ایت کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : اس ایت کا معنی یہ ہے کہ ’’ یہ راستہ اپنے اوپر چلنے والے کو سیدھا چلاتا ہے یہاں تک کہ ا س پر چل کروہ جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت کا معنی یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ لوگوں کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنا ہمارے ذمے ہے۔(قرطبی الحجر تحت الایۃ: ۴۱ ۵ / ۲۱ الجزء العاشر) امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ اخلاص مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے۔ (تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۴۱ ۷ / ۱۴۵) علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اس ایت کا یہ معنی بیان فرمایا کہ ‘‘چنے ہوئے بندوں کا ابلیس کے بہکاوے سے بچ جانا وہ راستہ ہے جو سیدھا اللہ تعالی تک پہنچا دیتا ہے۔ (روح البیان الحجر تحت الایۃ: ۴۱ ۴ / ۴۶۹) {ان عبادی لیس لك علیهم سلطن:بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں ۔} ابلیس نے جو یہ کہا کہ ’’ میں ضرور زمین میں ان (یعنی حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد) کیلئے (دنیا کی محبت اور تیری نافرمانی کو) خوشنما بنادوں گا اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا سوائے ان کے جو ان میں سے تیرے چنے ہوئے بندے ہیں ‘‘ اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ ابلیس انہیں جبری طور پر یا زبردستی اپنا پیروکار بنالے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ لوگ خود اپنے اختیار سے اس کی پیروی کریں گے۔ اسی وجہ سے دوسری ایت میں وضاحت ہے کہ قیامت کے دن ابلیس کہے گا ۔ ’’و ما كان لی علیكم من سلطن الا ان دعوتكم فاستجبتم لی‘‘(ابراہیم:۲۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور مجھے تم پر کوئی زبردستی نہیں تھی مگر یہی کہ میں نے تمہیں بلایا توتم نے میری مان لی ۔ {و ان جهنم:اور بیشک جہنم۔} یعنی بے شک جہنم ابلیس اس کی پیروی کرنے والوں اور اس کے گروہوں سب کے عذاب کے وعدے کی جگہ ہے۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۴۳ ۳ / ۱۰۳) نوٹ:یاد رہے کہ کفار ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جو گناہ گار مومن جہنم میں گئے تووہ عارضی طور پر وہاں رہیں گے۔