Surah Al Hijr Ayat 58 (15:58)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
قَالُـوْۤا اِنَّـاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ 58
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے عرض کیا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا:انہوں نے عرض کیا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں نے عرض کی: ہم ایک مجرم قوم یعنی حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم انہیں ہلاک کردیں البتہ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر والوں کو بچا لیں گے کیونکہ وہ ایماندار ہیں ۔ (جلالین الحجر تحت الایۃ: ۵۸-۵۹ ص۲۱۳) {الا ال لوط:سوائے لوط کے گھر والوں کے۔} اس ایت میں مذکور’’ ال لوط‘‘میں حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے سارے متبعین داخل ہیں ۔ اللہ تعالی کے بعض کام اس کے محبوب بندوں کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں : اس ایت میں فرشتوں نے جو یہ کہا کہ ’’ انا لمنجوهم اجمعین‘‘ اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالی کے بعض کام اس کے محبوب بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں جیسے عذاب سے بچا لینا اللہ تعالی کا کام ہے مگر فرشتوں نے کہا ’’ان سب کو ہم بچالیں گے‘‘ لہذا مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کے حکم سے عذاب سے بچائیں گے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں دوزخ سے بچالیں ۔ {الا امراته:مگر اس کی بیوی کو۔} حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی کا نام واہلہ تھا اور یہ چونکہ کافرہ تھی اس لئے یہ بھی عذاب والوں میں سے ہوئی۔ ایت ’’ الا امراته قدرنا‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)… نیک بختی اور بد بختی کا علم اللہ تعالی نے فرشتوں کو دیا ہے اور فرشتے اللہ تعالی کی عطا سے جانتے ہیں کہ کون مومن مرے گا اور کون کافر۔ (2)…اس بات کو سمجھنے سے پہلے یہ سوال و جواب پڑھئے۔ سوال: حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی کا پیچھے رہ جانے والوں میں طے کرنا اللہ تعالی کا کام ہے تو فرشتوں نے اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنے کی بجائے اپنی طرف کیوں کی اس کے جواب میں امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’فرشتوں نے طے کرنے کی نسبت اپنی طرف اس لئے کی کہ انہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام اور قرب حاصل ہے جیسے بادشاہ کے خاص ادمی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس طرح تدبیر کی ہم نے اس طرح حکم دیا حالانکہ تدبیر کرنے والا اور حکم دینے والا تو بادشاہ ہوتا ہے نہ کہ وہ لوگ ہوتے ہیں اور ا س کلام سے محض ان کی مراد بادشاہ کے پاس انہیں حاصل مقام و مرتبہ ظاہر کرنا ہوتا ہے تو اسی طرح یہاں ہے (کہ فرشتوں کے اس کلام سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں انہیں حاصل مقام و مرتبہ ظاہر ہو رہا ہے) (تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۶۰ ۷ / ۱۵۳) اس سے معلوم ہوا کہ جسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام اور قرب حاصل ہو وہ اللہ تعالی کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتاہے قران مجید میں ہی اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ کسی کو زندہ کرنا اور مریض کو شفا دینا در حقیقت اللہ تعالی کا کام ہے اور اس کام کی نسبت حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا: ’’ انی اخلق لكم من الطین كهیــٴـة الطیر فانفخ فیه فیكون طیرا باذن الله-و ابرئ الاكمه و الابرص و احی الموتى باذن الله‘‘(ال عمران:۴۹) ترجمہ کنزالعرفان: میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی ایک شکل بناتاہوں پھر اس میں پھونک ماروں گا تو وہ اللہ کے حکم سے فورا پرندہ بن جائے گی اور میں پیدائشی اندھوں کو اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں ۔