Surah Al Hijr Ayat 75 (15:75)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ 75
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اس میں غور کر کے عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{ان فی ذلك:بیشک اس میں ۔} یعنی حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کا ان کے مہمانوں کی بے حرمتی کرنے کا قصد کرنے اور ان کی بستیوں کو الٹ دئیے جانے اور ان پر پتھروں کی بارش ہونے میں غور کر کے عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں جن کے ذریعے وہ حق کی حقیقت پر استدلال کر سکتے ہیں ۔ (روح البیان الحجر تحت الایۃ: ۷۵ ۴ / ۴۸۰) {و انها:اور بیشک وہ بستیاں ۔} اس ایت میں کفار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی بستیاں ملک شام کی طرف جانے والی گزرگاہ پر ہیں اور لوگوں کے قافلے وہاں سے گزرتے ہیں اور غضب الہی کے آثار ان کے دیکھنے میں آتے ہیں تو کیا وہ ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔(جلالین الحجر تحت الایۃ: ۷۶ ص۲۱۴ مدارک الحجر تحت الایۃ: ۷۶ ص۵۸۶ ملتقطا) {ان فی ذلك لایة:بیشک اس میں نشانیاں ہیں ۔} یعنی ان بستیوں کے اثار جو کہ وہاں سے گزرنے والوں کے مشاہدے میں اتے ہیں ان میں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں کہ وہ انہیں دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ جس عذاب کی وجہ سے ان کے شہر اجڑ گئے وہ ان کے برے کاموں کی وجہ سے ان پر ایا تھا۔ (روح البیان الحجر تحت الایۃ: ۷۷۴ / ۴۸۰)اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور دین عقل اور فراست اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اس سے تقوی اور طہارت نصیب ہوتی ہے۔ بے عقل غافل اور کافر ایسے واقعات کو اتفاقی یا اسمانی تاثیرات سے مانتا ہے جیسا کہ اج بھی دیکھا جا رہا ہے لیکن عقلمند مومن ان کو مخلوق کی بد عملی کا نتیجہ جان کر دل میں اللہ تعالی کا خوف پیدا کرتا ہے۔