Surah Al Hijr Ayat 80 (15:80)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَ 80
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک حجر والو ں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک حجر والو ں نے رسولوں کو جھٹلایا ۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد كذب اصحب الحجر:اور بیشک حجر والو ں نے جھٹلایا۔} حجرمدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے جس میں قوم ثمود رہتے تھے انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی اور ایک رسول علیہ السلام کی تکذیب تمام رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب ہے کیونکہ ہر رسول تمام رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے تو جس نے کسی ایک رسول علیہ السلام کو جھٹلایا تو گویا کہ اس نے تمام رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا۔ (مدارک الحجر تحت الایۃ: ۸۰ ص۵۸۶) نوٹ: قوم ثمود کے واقعات تفصیل کے ساتھ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں گزر چکے ہیں ۔ {و اتینهم ایتنا:اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دیں ۔} یعنی ہم نے قوم ثمود کو اپنی نشانیاں دیں کہ پتھر سے اونٹنی پیدا کی جو بہت سے عجائبات پر مشتمل تھی مثلا اس کا جسم بڑا ہونا پیدا ہوتے ہی بچہ جننا اور کثرت سے دودھ دینا کہ پوری قوم ثمود کو کافی ہو وغیرہ یہ سب حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات اور قوم ثمود کے لئے ہماری نشانیاں تھیں تو وہ ان نشانیوں سے اعراض کرتے رہے اور ایمان نہ لائے ۔(تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۸۱ ۷ / ۱۵۷ مدارک الحجر تحت الایۃ: ۸۱ ص۵۸۶ ملتقطا) {و كانوا ینحتون:اور وہ تراشتے تھے ۔} یعنی وہ لوگ بے خوف ہو کرپہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے تھے کیونکہ انہیں اس کے گرنے اور اس میں نقب لگائے جانے کا اندیشہ نہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ گھر تباہ نہیں ہوسکتے ان پر کوئی آفت نہیں آسکتی۔(مدارک الحجر تحت الایۃ: ۸۳ ص۵۸۶) {فاخذتهم الصیحة:تو انہیں زور دار چیخ نے پکڑ لیا ۔} جب قوم ثمود نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں تو حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے تین دن گزرنے کے بعد صبح ہوتے ہی قوم ثمود کو اسمان سے ایک زور دار چیخ سنائی دی اور زمین میں زلزلہ ا گیا یوں ان سب کو ہلاک کر دیا گیا۔ (صاوی الحجر تحت الایۃ: ۸۳ ۳ / ۱۰۵۰ ملخصا) {فما اغنى عنهم:تو ان کے کچھ کام نہ آئی۔} یعنی وہ لوگ شرک اور جو برے کام کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ ائے اور ان کے مال و متا ع اور ان کے مضبوط مکان انہیں عذاب سے نہ بچاسکے۔(خازن الحجر تحت الایۃ: ۸۴ ۳ / ۱۰۷ جلالین الحجر تحت الایۃ: ۸۴ ص۲۱۴ ملتقطا) عذاب کی جگہ پر روتے ہوئے داخل ہونا: حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی بستیوں کے اثار عرب کی سر زمین میں اج بھی موجود ہیں اور وہاں وہ جگہ ’’مداین صالح‘‘ کے نام سے معروف ہے اج بھی لوگ ان اثارکو دیکھنے جاتے ہیں بطور خاص ان کی ترغیب کے لئے اور عمومی طور پر سب مسلمانوں کی ترغیب کے لئے یہاں ایک حدیث پاک ذکر کرتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب مقام حجر کے پاس سے گزرے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ظالموں کے مکانات میں روتے ہوئے داخل ہو نا ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہ عذاب اجائے جو ان پر ایا تھا۔ پھر سوار ی پر بیٹھے ہوئے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چہرہ انور پر چادر ڈال لی۔(بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ تعالی: والی ثمود اخاہم صالحا ۲ / ۴۳۲ الحدیث: ۳۳۸۰)