Surah An Nahl Ayat 10 (16:10)
The Bee · Juz 14 · Makki
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، اس سے تمہارا پینا ہے اور اسی سے درخت (اگتے) ہیں جن سے تم (جانور) چراتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چَراتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{هو الذی انزل من السمآء مآء:وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا۔} اس سے پہلی ایتوں میں اللہ تعالی نے اپنے ان احسانات کا ذکر فرمایا جو خاص انسانوں پر فرمائے اورا س ایت میں ان نعمتوں کو بیان فرمایا ہے کہ جو صرف انسانوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام حیوانات کے لئے بھی ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالی نے اسمان سے پانی اتارا جو پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے نباتات اگتی ہیں جن سے تمام جانور نفع اٹھاتے ہیں ۔ (صاوی النحل تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۱۰۵۸) {ینبت لكم به الزرع:اس پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اگاتاہے۔} جس طرح سابقہ ایات میں اللہ تعالی نے حیوانات کا تفصیلی اور اجمالی طورپر ذکر فرمایا اسی طرح اس ایت میں پھلوں کا تفصیلی اور اجمالی دونوں طرح سے ذکر فرمایا ہے۔ اس ایت میں چار اجناس کا صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا (1) کھیتی ۔ اس سے مراد وہ دانہ ہے جس سے غذا حاصل کی جاتی ہے جیسے گندم جو اور ان جیسی دوسری چیزیں کیونکہ ان سے بدن انسانی تقویت پاتا ہے۔ (2) زیتون ۔ یہ سالن اور تیل کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہ پھل برکت والا بھی ہے۔ (3) کھجور۔ اس پھل میں غذائیت ہے اور یہ میوہ ہے۔ (4) انگور۔ یہ غذائیت اور میوہ ہونے میں کھجور کی طرح ہے۔ اس کے بعد’’ و من كل الثمرت‘‘ فرما کر تمام پھلوں کا اجمالی طور پر ذکر کر دیا تاکہ لوگ اللہ تعالی کی عظیم قدرت اور مخلوق پر اس کے انعامات سے اگاہ ہوں ۔ (خازن النحل تحت الایۃ: ۱۱ ۳ / ۱۱۵ ملخصا) { ان فی ذلك لایۃ لقوم یتفكرون:بیشک اس میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے نشانی ہے ۔} یعنی پانی نازل کرنے اور اس سے طرح طرح کی اجناس پیدا کرنے میں ان لوگوں کے لئے اللہ تعالی کے کمال علمقدرت حکمت اور صرف اسی کے معبود ہونے پر دلالت کرنے والی بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو اس کی صنعتوں میں غورو فکر کر کے ایمان قبول کر لیتے ہیں ۔ (روح البیان النحل تحت الایۃ: ۱۱ ۵ / ۱۶ جلالین النحل تحت الایۃ: ۱۱ ص۲۱۶ ملتقطا)