Surah An Nahl Ayat 116 (16:116)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَﭤ 116
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اس لئے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تقولوا:اور نہ کہو۔} زمانہ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال بعض چیزوں کو حرام کرلیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کردیا کرتے تھے۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۱۶ ۳ / ۱۴۸) اس ایت میں اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ تعالی پر افترا فرمایا گیا اور افترا کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ بیشک جو اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔ اپنی طرف سے کسی چیز کو شرعا حرام کہنا اللہ تعالی پر افترا ہے: آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتادیتے ہیں جیسے میلاد شریف کی شیرینی فاتحہ گیارہویں عرس وغیرہ ایصال ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعا حرام ہیں اللہ تعالی پر افترا کرنا ہے۔ {متاع قلیل:تھوڑاسا فائدہ اٹھانا ہے۔} یعنی ان جاہلوں کیلئے تھوڑاسا فائدہ اٹھانا اور دنیا کی چند روزہ آسائش ہے جو باقی رہنے والی نہیں جبکہ ان کے لیے اخرت میں دردناک عذاب ہے۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۱۷ ۳ / ۱۴۹)