Surah An Nahl Ayat 24 (16:24)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْۙ-قَالُـوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ان سے کہا جائے: تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا؟ تو کہتے ہیں : پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ان سے کہا جائے تمہارے رب نے کیا اتارا کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا قیل لهم:اور جب ان سے کہا جائے۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت پر اور بتوں کی پوجا کرنے والوں کے رد میں دلائل قاہرہ بیان فرمائے جبکہ ان ایات میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے والوں کے شبہات اور ان کے جوابات بیان فرمائے ہیں ۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۲۴۷ / ۱۹۷) شان نزول: یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی اس نے بہت سی کہانیاں یاد کرلی تھیں اس سے جب کوئی قرآن کریم کی نسبت دریافت کرتا تو وہ یہ جاننے کے باوجود کہ قرآن شریف عاجز کر دینے والی کتاب اور حق و ہدایت سے بھری ہوئی ہے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہہ دیتا کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ایسی کہانیاں مجھے بھی بہت یاد ہیں ۔ (خزائن العرفان النحل تحت الایۃ: ۲۴ ص۵۰۳ ملخصا)بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ ایت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں کو باہم تقسیم کر لیا تھا یہ لوگ حج کے لئے انے والوں کو سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے اور جب کوئی شخص ان سے دریافت کرتا کہ تمہارے رب نے محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر کیا نازل فرمایا ہے تو وہ کہتے ’’ پہلے لوگوں کے جھوٹے افسانےہیں کوئی ماننے کی بات نہیں ۔ جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے جب ان کی ملاقات ہوتی تو وہ انہیں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صداقت اور نبوت کے بارے میں بتاتے تھے۔ (مدارک النحل تحت الایۃ: ۲۴ ص۵۹۳)