Surah An Nahl Ayat 56 (16:56)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْؕ-تَاللّٰهِ لَتُسْــٴَـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (کافر) ہماری دی ہوئی روزی میں سے انجانی چیزوں کیلئے حصہ مقرر کرتے ہیں ۔اللہ کی قسم! اے لوگو! تم سے اُس کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جو تم جھوٹ باندھتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انجانی چیزوں کے لیے ہماری دی ہوئی روزی میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے ۔
Tafseer (Urdu)
{و یجعلون لما لا یعلمون نصیبا:اور (کافر) انجانی چیزوں کیلئے حصہ مقرر کرتے ہیں ۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کو اللہ تعالی نے جو فصلیں اور مویشی عطا فرمائے وہ ان میں سے ان بتوں کے لئے حصہ مقرر کرتے ہیں جنہیں وہ معبود کہتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بت نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں اور وہ اللہ عز وجل کی بارگاہ میں ان کی شفاعت کریں گے حالانکہ بتوں میں یہ اوصاف موجود ہی نہیں کیونکہ وہ تو پتھر ہیں نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت کہاں سے رکھیں گے۔اللہ تعالی نے اپنی ذات کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم!اے لوگو! تم سے اس کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جوتم بتوں کو معبود تقرب کے لائق اوربت پرستی کو خدا کا حکم بتاکر اللہ تعالی پرجھوٹ باندھتے تھے۔( جلالین النحل تحت الایۃ: ۵۶ ص۲۲۰ مدارک النحل تحت الایۃ: ۵۶ ص۵۹۸-۵۹۹ ملتقطا) {و یجعلون لله البنت:اوروہ اللہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں ۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین اللہ عزوجل کے لیے توبیٹیاں قرار دیتے ہیں جیسے بنو خزاعہ اور کنانہ کے لوگ فرشتوں کو اللہ تعالی کی بیٹیاں کہتے تھے حالانکہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے اور اس کی شان میں ایسا کہنا بہت بے ادبی اور کفر ہے۔ان کافروں میں کفر کے ساتھ بدتمیزی کی انتہا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لئے توبیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیاں ناپسند کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالی کے لئے جو مطلقا اولاد سے منزہ اور پاک ہے اور اس کے لئے اولاد ثابت کرنا ہی عیب لگانا ہے اس کے لئے اولاد میں بھی وہ ثابت کرتے ہیں جس کو اپنے لئے حقیر اور عار کا سبب جانتے ہیں ۔(جلالین مع صاوی النحل تحت الایۃ: ۵۷ ۳ / ۱۰۷۳ ملخصا)