Surah Al Isra Ayat 29 (17:29)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ پورا کھول دو کہ پھر ملامت میں ، حسرت میں بیٹھے رہ جاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تجعل یدك مغلولة الى عنقك:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو۔} اس ایت میں خرچ کرنے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا فرمایا گیا ہے اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلو م ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے اور دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا ایسا کرنا تو سبب ملامت ہوتا ہے کہ بخیل کنجوس کو سب لوگ برا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے کہ اس صورت میں ادمی کو پریشان ہوکر بیٹھنا پڑتا ہے۔ اس ایت کے شان نزول کے بارے میں یہ روایت ہے کہ ایک مسلمان عورت کے سامنے ایک یہودیہ نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مبالغہ کیا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ترجیح دیدی اور کہا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی سخاوت اس انتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنی ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے یہ بات مسلمان خاتون کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سب صاحب فضل و کمال ہیں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے جودونوال میں کچھ شبہ نہیں لیکن ہمارے اقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مرتبہ سب سے اعلی ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے چاہا کہ یہود یہ کو سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جودو کرم کی آزمائش کرا دی جائے چنانچہ انہوں نے اپنی چھوٹی بچی کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں اس لئے بھیجا کہ ان سے قمیص مانگ لائے اس وقت حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیب تن تھی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وہی اتار کر عطا فرمادی اور اپنے دولت سرائے اقدس میں تشریف رکھی شرم سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اذان کا وقت آیا اذان ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے انتظار کیا حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف نہ لائے تو سب کو فکر ہوئی ۔ حال معلوم کرنے کے لئے دولت سرائے اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ جسم مبارک پر قمیص نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔( روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۲۹ ۵ / ۱۵۱-۱۵۲ خزائن العرفان بنی اسرائیل تحت الایۃ: ۲۹ ص۵۳۱ ملتقطا) نوٹ:یاد رہے کہ اس ایت میں خطاب اگرچہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے لیکن مراد اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت ہے۔