Surah Al Isra Ayat 46 (17:46)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا 46
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں تا کہ اس قران کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ کافرنفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنا على قلوبهم اكنة: اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں ۔} ایت کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ کفار کی ضد و انانیت کے باعث اللہ عزوجل نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں جس سے وہ قران کریم کو درست طور پر سمجھ نہیں سکتے اور ان کے کانوں میں بھی بوجھ ڈال دئیے جس کے باعث وہ قرآن شریف سنتے نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قران کی صحیح سمجھ ایمان اور تقوی سے حاصل ہوتی ہے اس کے بغیر بسا اوقات ذہن الٹا کام کرتا ہے جیسا اجکل دیکھا جا رہا ہے۔ ہر کتا ب روشنی میں پڑھی جاتی ہے قران کو پڑھنے سمجھنے کیلئے روشنی تقوی ہے۔ لہذا فہم قران کیلئے اس روشنی کو حاصل کرنا چاہیے۔ {نحن اعلم بما یستمعون به:ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ اسے کیوں سنتے ہیں ۔} یعنی کفار سنتے بھی ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے یہ ان کا ایک جرم ہے اور ان کا دوسرا جرم یہ ہے کہ ان میں سے کوئی آپ کو مجنون کہتا ہے اور کوئی جادوگر اور کوئی کاہن اور کوئی شاعر۔(خازن الاسراء تحت الایۃ: ۴۷ ۳ / ۱۷۶-۱۷۷ ملخصا)