Surah Al Isra Ayat 86 (17:86)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَىٕنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًا 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم چاہتے توہم جو آپ کی طرف وحی بھیجتے ہیں اسے لے جاتے پھر تم اپنے لئے اس پر ہمارے حضور کوئی وکیل نہ پاتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم چاہتے تو یہ وحی جو ہم نے تمہاری طرف کی اسے لے جاتے پھر تم کوئی نہ پاتے کہ تمہارےلیے ہمارے حضور اس پر وکالت کرتا۔
Tafseer (Urdu)
{و لىن شئنا: اور اگر ہم چاہتے ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو اس قران کو جو کہ شفا ء اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور ان تمام علوم کا جامع ہے جو اپ کو عطا کئے گئے اسے سینوں اور صحیفوں سے محو فرما دیتے پھر اپ کوئی وکیل نہ پاتے جو ہماری بارگاہ میں اپ کے لئے ا س قران کو لوٹا دینے کی وکالت کرتا لیکن اپ کے رب کی رحمت ہی ہے کہ اس نے قیامت تک اسے باقی رکھا اور ہر طرح کی کمی بیشی اور تبدیلی سے محفوظ فرما دیا۔ اور یہ اللہ تعالی کا احسان در احسان ہے کہ اس نے پہلے قران نازل فرما کر احسان عظیم فرمایا اور پھر اسے محفوظ فرما کر اور قیامت تک باقی رکھ کر احسان فرمایا۔ اے حبیب!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بیشک تمہارے او پر اللہ عزوجل کا بڑا فضل ہے کہ اس نے آپ پر قرآن کریم نازل فرمایا آپ کو تمام بنی آدم کا سردار اور خاتم النبیین کیا اور مقام محمود عطا فرمایا۔( ابوسعود الاسراء تحت الایۃ: ۸۶-۸۷ ۳ / ۳۵۰ مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۸۶-۸۷ ص۶۳۵ جلالین مع صاوی الاسراء تحت الایۃ: ۸۶-۸۷ ۳ / ۱۱۵۱-۱۱۵۲ ملتقطا) قران مجید کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل کی ترغیب: علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اس ایت کامعنی یہ بیان کیا ہے کہ اے لوگو ! قران (کے احکام) پر پابندی سے عمل کرو اور اس میں کمی کرنا چھوڑ دو کیونکہ ہم اسے تمہارے سینوں اور صحیفوں سے لے جانے پر قادر ہیں لیکن قیامت انے تک اسے باقی رکھنا ہماری تم پر رحمت ہی ہے اور جب قیامت قریب ائے گی تو ہم اسے سینوں اور صحیفوں سے محو کر دیں گے۔( صاوی الاسراء تحت الایۃ: ۸۶ ۳ / ۱۱۵۱-۱۱۵۲) قران کریم سے متعلق حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک قران جہاں سے ایا تھا وہیں لوٹ نہ جائے ۔ عرش کے گرد قران کی ایسی بھنبھناہٹ ہو گی جیسی شہد کی مکھی کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالی قران سے فرمائے گا ’’تیرا کیا حال ہے۔ قران عرض کرے گا: اے میرے رب! عزوجلمیں تیرے پاس سے گیا اور تیری ہی طرف لوٹ ایا ہوں میری تلاوت تو کی گئی لیکن میرے احکامات پر عمل نہ کیا گیا۔( مسندالفردوس باب لام الف ۵ / ۷۹ الحدیث: ۷۵۱۳) اورحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’بے شک یہ قران جو تمہارے سامنے موجود ہے عنقریب اسے اٹھا لیا جائے گا۔ ایک شخص نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ ہم نے اسے دلوں میں اور صحیفوں میں محفوظ کر رکھا ہے ہم اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں اور ہمارے بچے اپنی اولاد کو قران سکھاتے ہیں ۔ اپ نے فرمایا ’’وہ ایک رات میں چلا جائے گا اور صبح کے وقت لوگ اسے نہیں پائیں گے اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ قران دلوں اور صحیفوں سے محو کر دیا جائے گا۔( ابو سعود الاسراء تحت الایۃ: ۸۶ ۳ / ۳۵۰) نیزحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ہی فرمایا کہ قرآن پاک خوب پڑھو اس سے پہلے کہ قرآن پاک اٹھالیا جائے کیونکہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ قرآن پاک نہ اٹھایا جائے۔( شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی ادمان تلاوتہ ۲ / ۳۵۵ الحدیث: ۲۰۲۶)اللہ تعالی ہمیں قران پاک کی تلاوت کرنے اسے سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کی توفیق عطا کرےامین۔