Surah Al Isra Ayat 94 (17:94)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُـوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا 94
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور لوگوں کو ایمان لانے سے ان کے پاس ہدایت آجانے کے بعد اسی بات نے منع کررکھا ہے کہ وہ کہتے ہیں : کیا اللہ نے ایک آدمی کو رسول بنا کر بھیجا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا۔
Tafseer (Urdu)
{ ان یؤمنوا: کہ ایمان لائیں ۔} ارشاد فرمایا حالانکہ لوگوں کے پاس ہدایت آچکی ہے مگر انہیں صرف اس بات نے ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا اللہ تعالی نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا ہے یعنی وہ لوگ رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے اور ان کے منصب نبوت اور اللہ تعالی کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے معترف نہ ہوئے یہی ان کے کفر کی اصل وجہ تھی اور اسی لئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۹۴ ۳ / ۱۹۲-۱۹۳ ملخصا)اسی کا جواب اگلی ایت میں دیا گیا۔ { لو كان فی الارض ملىكة: اگر زمین میں فرشتے ہوتے۔} کفار کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اللہ عزوجل نے فرمایا کہ تم ان سے فرما دو کہ اگر انسانوں کی بجائے زمین میں صرف فرشتے رہائش پذیر ہوتے جو یہاں چلتے پھرتے تو ہم ان پر اسمان سے کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن جب زمین میں انسان بستے ہیں تو رسول بھی انسان ہی بنایا جاتا ہے۔ فرشتوں کیلئے فرشتہ ہی رسول بھیجا جاتا کیونکہ وہ ان کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو ان کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بے جا ہے۔( روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۹۵ ۵ / ۲۰۵ ملخصا) {قل:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ فرما دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اس بات پر اللہ تعالی ہی گواہ کافی ہے کہ جس چیز کے ساتھ مجھے بھیجا گیا وہ میں نے تم تک پہنچا دی اور تم نے (اسے) جھٹلایا اور دشمنی کی بے شک وہ اپنے بندوں یعنی رسولوں اور جن کی طرف انہیں بھیجا گیا ان کے ظاہری اور باطنی تمام احوال کی خبر رکھنے والا اور انہیں دیکھنے والا ہے تو وہ انہیں اس کی جزا دے گا۔( روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۹۶ ۵ / ۲۰۵)