Surah Al Kahf Ayat 19 (18:19)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْؕ-قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْؕ-قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍؕ-قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْؕ-فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ویسا ہی ہم نے انہیں جگایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے حالات پوچھیں ۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم یہاں کتنی دیر رہے ہو؟ چند افراد نے کہا: کہ ہم ایک دن رہے ہیں یا ایک دن سے کچھ کم وقت۔ دوسروں نے کہا: تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے ہوتو اپنے میں سے ایک کو یہ چاندی دے کرشہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ عمدہ ہے پھر تمہارے پاس اسی میں سے کوئی کھانا لے آئے اور اسے چاہیے کہ نرمی سے کام لے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یوں ہی ہم نے ان کو جگایا کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں ان میں ایک کہنے والا بولا تم یہاں کتنی دیر رہے کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ ستھرا ہے کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے۔