Surah Al Kahf Ayat 58 (18:58)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِؕ-لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَؕ-بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىٕلًا 58
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تمہارا رب بڑا بخشنے والا،رحمت وا لا ہے۔ اگر وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی بنا پر پکڑ لیتا تو جلد ان پر عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لیے ایک وعدے کا وقت ہے جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تمہارا رب بخشنے والا مہر والا ہے اگر وہ انہیں ان کے کئے پر پکڑتا تو جلد ان پر عذاب بھیجتا بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و ربك الغفور ذو الرحمة:اور تمہارا رب بڑا بخشنے والا رحمت وا لا ہے۔} اس ایت میں اللہ عزوجل کی رحمت اور مہلت کا بیان ہے کہ وہ بڑا بخشنے والا ہے کہ کروڑوں گناہ کرنے کے بعد بھی اگر کوئی مغفرت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تووہ بخش دیتا ہے اور ساری زندگی گناہوں میں گزارنے کے باوجود بھی اگر کوئی زندگی کے اخری لمحات میں توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالی اسے معاف فرمادیتا ہے۔ یہ شان مغفرت بھی ہے اور شان رحمت بھی اور شان رحمت میں یہ بھی داخل ہے کہ اس نے مہلت دی ہوئی ہے اور عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا بلکہ کفروگناہ کے باوجود لوگوں کو دنیا کا رزق دیتا رہتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر وہ لوگوں کودنیا ہی میں ان کے اعمال کی بنا پر پکڑ لیتا تو جلد ان پر عذاب بھیج دیتا لیکن اس کی رحمت ہے کہ اس نے مہلت دی اور عذاب میں جلدی نہ فرمائی۔ بلکہ ان کے لیے ایک وعدے کا وقت مقرر کردیا یعنی قیامت کا دن ۔ اس دن البتہ ساری مہلتیں ختم ہوجائیں گی اور اس دن کوئی پناہ نہ ہوگی۔