Surah Al Kahf Ayat 9 (18:9)
The Cave · Juz 15 · Makki
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْـكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ ی غار اور جنگل کے کنارے والے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے۔
Tafseer (Urdu)
{ ام حسبت: کیا تمہیں معلوم ہوا۔} یہاں سے اصحاب کہف کا واقعہ شروع ہوتا ہے اور اسے اللہ عزوجل نے اپنی عجیب و غریب نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا کیونکہ اس واقعے میں بہت سی نصیحتیں اور حکمتیں ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ رقیم اس وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف ہیں ۔(خازن الکھف تحت الایۃ: ۹ ۳ / ۱۹۸) {اذ اوى الفتیة الى الـكهف:جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی۔} ارشاد فرمایا کہ جب ان نوجوانوں نے اپنی کافر قوم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے ایک غار میں پناہ لی اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کی اے ہمارے رب! عزوجل ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہدایت و نصرت اور رزق و مغفرت اور دشمنوں سے امن عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے معاملے میں ہدایت کے اسباب مہیا فرما۔ اصحاب کہف کے متعلق قوی ترین قو ل یہ ہے کہ وہ سات حضرات تھے اگرچہ ان کے ناموں میں کسی قدر اختلاف ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت پر جو خازن میں ہے ان کے نام یہ ہیں ۔ (1) مکسلمینا (2)یملیخا (3) مرطونس (4) بینونس (5) سارینونس (6) ذونوانس (7) کشفیط طنونس اور ان کے کتے کا نام قطمیر ہے۔( خازن الکھف تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۲۰۷) اصحاب کہف کے ناموں کی برکت: اصحاب کہف کے نام بڑے بابرکت ہیں اور اکابر بزرگان دین نے ان کے فوائد وخواص بیان کئے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں کہ اگریہ اسماء لکھ کر دروازے پر لگادیئے جائیں تو مکان جلنے سے محفوظ رہتا ہے سرمایہ پر رکھ دیئے جائیں تو چوری نہیں ہوتا کشتی یا جہاز ان کی برکت سے غرق نہیں ہوتا بھاگا ہوا شخص ان کی برکت سے واپس آجاتا ہے کہیں آگ لگی ہو اور یہ اسماء کپڑے میں لپیٹ کر ڈال دیئے جائیں تو وہ بجھ جاتی ہے بچے کے رونے باری کے بخار درد سر ام الصبیان (خاص قسم کے دماغی جھٹکے اور دورے) خشکی و تری کے سفر میں جان و مال کی حفاظت عقل کی تیزی اور قیدیوں کی آزادی کے لئے یہ اسماء لکھ کرتعویذ کی طرح بازو میں باندھے جائیں۔( جمل الکھف تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۴۰۹) اصحاب کہف کا واقعہ : اکثر مفسرین کے نزدیک اصحاب کہف رضی اللہ تعالی عنہم کا واقعہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے اسمان پر تشریف لے جانے کے بعد رونما ہوا اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ واقعہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے کا ہے اور ا س کا ذکر اہل کتاب کی مذہبی کتابوں میں موجود ہے اور اسی وجہ سے یہودیوں نے بڑی توجہ کے ساتھ ان کے حالات محفوظ رکھے۔ بہر حال یہ واقعہ کس زمانے میں رونما ہوا اس کی اصل حقیقت اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے البتہ ہم یہاں معتبر مفسرین کی طرف سے بیان کردہ اس واقعے کی بعض تفصیلات کا خلاصہ ذکر کرتے ہیں چنانچہ مفسرین کے بیان کے مطابق اصحاب کہف افسوس نامی ایک شہر کے شرفاء و معززین میں سے ایماندار لوگ تھے۔ ان کے زمانے میں دقیانوس نامی ایک بڑا جابر بادشاہ تھا جو لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا اورجو شخص بھی بت پرستی پر راضی نہ ہوتا اسے قتل کر ڈالتا تھا۔ دقیانوس بادشاہ کے جبر و ظلم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے اصحاب کہف بھاگے اور قریب کے پہاڑ میں غار کے اندر پناہ گزین ہوئے وہاں سوگئے اور تین سوبرس سے زیادہ عرصہ تک اسی حال میں رہے ۔ بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ ایک غار کے اندر ہیں تو اس نے حکم دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار کھینچ کر بند کردیا جائے تاکہ وہ اس میں مر کر رہ جائیں اور وہ ان کی قبر ہوجائے یہی ان کی سزا ہے۔ حکومتی عملے میں سے یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھا اس نے ان اصحاب کے نام تعداد اور پورا واقعہ رانگ کی تختی پرکندہ کرا کرتا نبے کے صندوق میں دیوار کی بنیا د کے اندر محفوظ کردیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرا دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا زمانے گزرے سلطنتیں بدلیں یہاں تک کہ ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا جس کا نام بیدروس تھا اور اس نے 68 سال حکومت کی ۔ اس کے دور حکومت میں ملک میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکر ہوگئے ۔ بادشاہ ایک تنہا مکان میں بند ہوگیا اور اس نے گریہ وزاری سے بارگاہ الہی میں دعا کی کہ یارب! کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے مخلوق کو مردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو جائے۔ اسی زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور (کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر) دیوار کوگرا دیا۔ دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے ۔ اصحاب کہف اللہ تعالی کے حکم سے فرحاں و شاداں اٹھے چہرے شگفتہ طبیعتیں خوش زندگی کی ترو تازگی موجود۔ ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے نماز سے فارغ ہو کر یملیخاسے کہا کہ آپ جائیے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لائیے اور یہ بھی خبر لائیے کہ دقیانوس بادشاہ کا ہم لوگوں کے بارے میں کیا ارادہ ہے۔ وہ بازار گئے تو انہوں نے شہر پناہ کے دروازے پر اسلامی علامت دیکھی اور وہاں نئے نئے لوگ پائے یہ دیکھ کر انہیں تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے کل تک تو کوئی شخص اپنا ایمان ظاہر نہیں کرسکتا تھا جبکہ آج اسلامی علامتیں شہر پناہ پر ظاہر ہیں ۔ پھر کچھ دیر بعد آپ تندور والے کی دوکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے اسے دقیانوسی سکے کا روپیہ دیا جس کارواج صدیوں سے ختم ہوگیا تھا اور اسے دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا۔ بازار والوں نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہے چنانچہ وہ انہیں پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے وہ نیک شخص تھا اس نے بھی ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں ہے انہوں نے کہا خزانہ کہیں نہیں ہے۔ یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے۔ حاکم نے کہا :یہ بات کسی طرح قابل یقین نہیں کیونکہ اس میں جو سال لکھا ہوا ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں ہم لوگ بوڑھے ہیں ہم نے تو کبھی یہ سکہ دیکھا ہی نہیں ۔ آپ نے فرمایا: میں جو دریافت کروں وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عقدہ حل ہوجائے گا۔ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال وخیال میں ہے حاکم نے کہا آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں سینکڑوں برس پہلے ایک بے ایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا: کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں اور میرے ساتھی قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزین ہیں چلو میں تمہیں ان سے ملادوں حاکم اور شہر کے سردار اور ایک کثیر مخلوق ان کے ہمراہ غار کے کنارے پہنچ گئے۔ اصحاب کہف یملیخا کے انتظار میں تھے جب انہوں نے کثیر لوگوں کے آنے کی آواز سنی تو سمجھے کہ یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں آرہی ہے۔ چنانچہ وہ اللہ عزوجل کی حمدمیں مشغول ہوگئے۔ اتنے میں شہر کے لوگ پہنچ گئے اور یملیخا نے بقیہ حضرات کو تمام قصہ سنایا ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ تعالی کے حکم سے اتنا طویل زمانہ سوئے رہے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں کہ لوگوں کے لئے موت کے بعد زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی بنیں ۔ جب حاکم شہر غار کے کنارے پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا اس کو کھلوایا تو تختی برآمد ہوئی اس تختی میں ان اصحاب کے اسماء اور ان کے کتے کا نام لکھا تھا یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے اس غار میں پناہ گزین ہوئی دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے انہیں غار میں بند کردینے کا حکم دیا ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں تاکہ جب کبھی یہ غار کھلے تو لوگ ان کے حال پر مطلع ہوجائیں ۔ یہ تختی پڑھ کر سب کو تعجب ہوا اور لوگ اللہ عزوجل کی حمد و ثناء بجالائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرمادی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ حاکم شہرنے اپنے بادشاہ بید روس کو واقعہ کی اطلاع دی چنانچہ بادشاہ بھی بقیہ معززین اور سرداروں کو لے کر حاضر ہوا اور شکر الہی کا سجدہ بجا لایا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کی ۔اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللہ عزوجل کے سپرد کرتے ہیں ۔ والسلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکا تہ اللہ تعالی تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن و انس کے شر سے بچائے ۔بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالی نے انہیں وفات دیدی بادشاہ نے سال کے صندوق میں ان کے اجساد کو محفوظ کیا اور اللہ تعالی نے رعب سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے ۔ بادشاہ نے سرغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک خوشی کا دن معین کردیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔(خازن الکھف تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۱۹۸-۲۰۳ تفسیر ابن کثیر الکھف تحت الایۃ: ۲۱ ۵ / ۱۳۲-۱۳۳ خزائن العرفان الکہف تحت الایۃ: ۱۰ ص۵۴۹-۵۵۰ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں عرس کا معمول قدیم سے ہے۔