Surah Maryam Ayat 16 (19:16)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَۘ-اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّا 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب وہ اپنے گھر والوں سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر فی الكتب مریم:اور کتاب میں مریم کو یاد کرو۔} اس سے پہلی ایات میں حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان ہوا کہ انہیں بڑھاپے کی حالت میں اور زوجہ کے بانجھ ہونے کے باجود اللہ تعالی نے ایک نیک اور صالح بیٹا عطا فرمایا اور یہ واقعہ اللہ تعالی کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے اب یہاں سے اللہ تعالی کی قدرت پر دلالت کرنے والا ایک اور انتہائی حیرت انگیز واقعہ بیان کیا جا رہا ہے چنانچہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپ قرآن کریم میں حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کا واقعہ پڑھ کر ان لوگوں کو سنائیے تاکہ انہیں ان کا حال معلوم ہو جب وہ اپنے گھر والوں سے مشرق کی طرف ایک جگہ الگ ہوگئی اوراپنے مکان میں یا بیت المقدس کی شرقی جانب میں لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھیں ۔(مدارک مریم تحت الایۃ: ۱۶ ص۶۶۹-۶۷۰) حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کی فضیلت: مریم کے معنی ہیں عابدہ خادمہ۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہابچپن سے بیت المقدس کی خادمہ تھیں اور وہاں رہ کر اللہ تعالی کی عبادت کیا کرتی تھیں اور حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکے فضائل میں سے ہے کہ قران کریم میں عورتوں میں سے صرف اپ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام مبارک ذکر کیا گیا ہے نیز اپ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان کے بارے میں سورہ ال عمران میں فرمایا گیا ’’و اذ قالت الملىكة یمریم ان الله اصطفىك و طهرك و اصطفىك على نسآء العلمین‘‘(ال عمران:۴۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے اور تمہیں خوب پاکیزہ کردیا ہے اور تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرلیا ہے۔ نوٹ: حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کی ولادت اور پرورش کے واقعات سورہ ال عمران کی ایت نمبر 35 تا 37 میں بیان ہوئے اور اپ رضی اللہ تعالی عنہاکی عبادت و ریاضت کاذکر ایت نمبر 43میں کیا گیا ہے۔