Surah Maryam Ayat 18 (19:18)
Mary · Juz 16 · Makki
قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمریم بولی: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولی میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قالت انی اعوذ بالرحمن منك:مریم بولی: میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔} جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا نے خلوت میں اپنے پاس ایک بے ریش نوجوان کو دیکھا تو خوفزدہ ہوگئیں اور فرمایا کہ میں تجھ سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگتی ہوں اگر تم میں کچھ خدا خوفی ہے تویہاں سے چلے جاؤ۔ اس کلام سے اپ کی انتہائی پاکدامنی اور تقوی کا پتہ چلتا ہے کہ اپ نے چیخ کر کسی او ر کو اواز نہ دی بلکہ اللہ عزوجل سے پناہ مانگی تاکہ اس واقعہ کی کسی کو خبر نہ ہو ۔ {قال انما انا رسول ربك: کہا:میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ۔} جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا خوفزدہ ہوئیں تواس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ میں فرشتہ ہوں اور تمہارے رب عزوجل کی طرف سے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں تمہیں ایک ستھرا اور پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔ ایت’’لاهب لك غلما زكیا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں : (1)… اللہ تعالی کے مقبول بندے اللہ تعالی کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں جیسے کسی کوبیٹا دینا در حقیقت اللہ تعالی کا کام ہے لیکن حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔ (2)… اللہ تعالی کے بعض کام اس کے بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں لہذا یہ کہنا درست ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جنت دیتے ہیں اور اللہ تعالی کے اولیاء اولاد دیتے ہیں وغیرہ۔ (3)… اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو اولاد عطا کرنے کی طاقت اور اجازت دیتا ہے اور وہ اللہ تعالی کی دی ہوئی طاقت واجازت سے اولاد عطا بھی کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بیٹا دینے کی طاقت اور اجازت دی اور اپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی دی ہوئی طاقت اور اجازت سے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو بیٹا عطا کیا۔