Surah Maryam Ayat 77 (19:77)
Mary · Juz 16 · Makki
اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاﭤ 77
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور کہتا ہے ،مجھے ضرو ر مال اور اولاد دئیے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{افرءیت الذی كفر بایتنا:تو کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری ایتوں کے ساتھ کفر کیا۔}صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک کہ تم محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) سے پھر نہ جاؤ اور کفر اختیار نہ کرو۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے۔ وہ کہنے لگا: کیا میں مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا :ہاں ۔ عاص نے کہا: تو پھر مجھے چھوڑ یئے یہاں تک کہ میں مرجاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں اور مجھے مال و اولاد ملے جب ہی میں آپ کا قرض ادا کروں گا۔ اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں ۔( بخاری کتاب الاجارۃ باب ہل یواجر الرجل نفسہ من مشرک۔۔۔ الخ ۲ / ۶۸ الحدیث: ۲۲۷۵ مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب سوال الیہود النبیصلی اللہ علیہ وسلم عن الروح۔۔۔ الخ ص۱۵۰۲ الحدیث: ۳۵(۲۷۹۵)) چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی3 ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا اپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری ایتوں کے ساتھ کفر کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر میں دوبارہ زندہ ہوا تو اخرت میں مجھے ضرو ر مال اور اولاد دئیے جائیں گے۔ کیا اسے غیب کی اطلاع مل گئی ہے اور اس نے لوح محفوظ میں دیکھ لیا ہے کہ آخرت میں اسے مال اور اولاد ملے گی یا اللہ تعالی نے اس سے کوئی وعدہ کیا ہوا ہے جس سے اسے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ قیامت میں بھی خوشحال ہوگا۔ہر گز نہیں وہ نہ توغیب جانتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی عہد ہے بلکہ یہ شخص جھوٹا اور بدکار ہے اور جوبات یہ کہہ رہاہے اسے ہمارے فرشتوں نے لکھ لیا ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اس کابدلہ دیں گے اور ہم اسے مال و اولاد کے بدلے خوب لمبا عذاب دیں گے جس کا وہ مستحق ہے اور اس کی ہلاکت کے بعدمال و اولاد سب سے اس کی ملکیت اور اس کا تصرف اٹھ جائے گا اور اس کے ہم وارث ہوں گے اور وہ قیامت کے دن ہمارے پاس تنہا اور خالی ہاتھ آئے گا اور اخرت میں دنیا سے زیادہ ملنا تو دور کی بات دنیا میں جو مال اور اولاد اس کے ساتھ ہے اس وقت وہ بھی اس کے ساتھ نہ ہوگا۔( مدارک مریم تحت الایۃ: ۷۷-۸۰ ص۶۸۲-۶۸۳ خازن مریم تحت الایۃ: ۷۷-۸۰ ۳ / ۲۴۵-۲۴۶ روح البیان مریم تحت الایۃ: ۷۷-۸۰ ۵ / ۳۵۴ ملتقطا) سورہ مریم کی ایت نمبر 77 تا 80 سے حاصل ہونے والی معلومات: ان ایات سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… شریعت کے احکام کا مذاق اڑانا کفار کا طریقہ ہے۔ اس سے وہ لوگ اپنے طرز عمل پر غور کر لیں جو حدود و قصاص اور نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلق شریعت کے احکام کا مذاق اڑاتے اور انہیں انسایت سوزاحکام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ (2)… مرنے کے بعد اور قیامت کے دن کفار کا مال و اولاد انہیں کچھ کام نہ ائے گا۔ یاد رہے کہ مومن کامال اور اس کی اولاد کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہو گا بلکہ اسے مرنے کے بعد اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کی خاطر راہ خدا میں خرچ کیا ہوا مال بھی کام ائے گا اور اس کی نیک اولاد سے بھی اسے فائدہ حاصل ہو گا۔