Surah Maryam Ayat 93 (19:93)
Mary · Juz 16 · Makki
اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاﭤ 93
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب رحمٰن کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے۔
Tafseer (Urdu)
{ان كل من فی السموت و الارض:آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں ۔} یہ ایت مبارکہ اللہ تعالی کے علاوہ دیگر بناوٹی معبودوں کی نفی کی دلیل بھی بن سکتی ہے اور اس بات کی بھی دلیل بن سکتی ہے کہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے۔ پہلی صورت میں اس ایت کا معنی یہ ہو گا کہ کفار زمین پر جن لوگوں کو اور اسمان پر جن فرشتوں کو اپنا معبود مانتے ہیں وہ سب تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے اور صرف اسے ہی سجدہ کرتے ہیں تو پھر وہ معبود کس طرح ہو سکتے ہیں ۔ دوسری صورت میں اس ایت کا معنی یہ ہو گا کہ قیامت کے دن تمام جن و انس اور فرشتے نیز کفار زمین پر جن لوگوں کو اور اسمان پر جن فرشتوں کو اللہ تعالی کی اولاد بتاتے ہیں وہ سب اللہ تعالی کا بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور یہ بات واضح ہے کہ جو کسی کا بندہ ہوتا ہے وہ اس کی اولاد نہیں ہوتا اور جو اولاد ہو وہ اس کا بندہ نہیں ہوتا کیونکہ بندہ ہونا اور اولاد ہونا دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتے نیز کوئی اپنی اولاد کا مالک نہیں ہوتا جبکہ اللہ تعالی توہر چیز کا مالک ہے اور جو خود اللہ تعالی کی ملکیت میں ہے تو وہ اس کی اولاد ہرگز نہیں ہو سکتا۔