Surah Maryam Ayat 97 (19:97)
Mary · Juz 16 · Makki
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا 97
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں ہی آسان فرمادیا تاکہ تم اس کے ذریعے متقیوں کو خوشخبری دواور جھگڑالو لوگوں کو اس کے ذریعے ڈر سناؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ۔
Tafseer (Urdu)
{فانما یسرنه بلسانك:تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں ہی آسان فرمادیا۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے یہ قرآن اپ کی زبان عربی میں ہی آسان فرما دیا ہے تاکہ اپ اس کے ذریعے پرہیزگار لوگوں کو ( اللہ تعالی کی رحمت و رضا کے حصول اور جنت کی )خوشخبری دیں اور کفار قریش کے جھگڑالو لوگوں کو اس کے ذریعے اللہ تعالی کے عذاب کا ڈر سنائیں۔ سورہ مریم کی ایت97سے متعلق 3اہم باتیں : یہاں اس ایت سے متعلق تین اہم باتیں ملاحظہ ہوں (1)… بنیادی طور پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے قران مجیداسان فرمادیااور یہ اسان فرمانا اس اعتبار سے ہے کہ اسے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زبان ’’عربی ‘‘میں نازل کیا گیا جس کی وجہ سے فہم قران اسان ہو گیا۔ (2)…اس ایت میں عذاب الہی سے ڈرنے والوں کو خوشخبری دینے اور جھگڑالو قوم کو ڈرانے کے ذریعے تبلیغ کرنے کا فرمایاگیااس سے معلوم ہوا کہ متقی لوگوں کو اللہ تعالی کے فضل و رحمترضا اور جنت کی بشارت سناکراور جھگڑالو قوم کو اللہ تعالی کی گرفت اور اس کے عذاب کا ڈر سنا کر تبلیغ کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ (3)…قران مجید (سر زمین عرب میں ) عربی زبان میں نازل کیا گیا اس سے معلوم ہواکہ دنیامیں جس قوم اور علاقے میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہو تواس کے لئے وہاں کی زبان سیکھی جائے تاکہ وہ لوگ اپنی زبان میں کی جانے والی تبلیغ کو اسانی سے سمجھ سکیں اور اسلام کے قریب ہو ں ۔ {و كم اهلكنا قبلهم من قرن:اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے کفار قریش سے پہلے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کی وجہ سے بہت سی امتیں ہلاک کر دیں ۔ کیا اب تم ان میں کسی کو پاتے ہو یا ان کی معمولی سی آواز بھی سنتے ہو وہ سب نیست و نابود کر دیئے گئے اسی طرح یہ لوگ اگر وہی طریقہ اختیار کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہو گا۔