Surah Al Baqarah Ayat 1 (2:1)
The Cow · Juz 1 · Madani
الٓمّٓ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariالٓمّٓۚ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanالٓمّٓۚ۔
Tafseer (Urdu)
{الم:}قران پاک کی 29سورتوں کے شروع میں اس طرح کے حروف ہیں انہیں ’’حروف مقطعات‘‘کہتے ہیں ان کے بارے میں سب سے قوی قول یہ ہے کہ یہ حروف اللہ تعالی کے راز ہیں اور متشابہات میں سے ہیں ان کی مراد اللہ تعالی جانتاہے اور ہم ان کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱ ۱ / ۲۰ الاتقان فی علوم القران النوع الثالث والاربعون ۲ / ۳۰۸ ملتقطا) حروف مقطعات کا علم اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو حاصل ہے یانہیں : یہاں یہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بھی حروف مقطعات کا علم عطا فرمایا ہے جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :قاضی بیضاوی(رحمۃاللہ تعالی علیہ) ’’انوارالتنزیل‘‘ میں سورتوں کے ابتدائیہ یعنی حروف مقطعات کے بارے میں فرماتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ ایک راز ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے۔تقریبا ایسی ہی روایات خلفاء اربعہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی(منقول) ہیں اور ممکن ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے یہ مراد لیا ہو کہ یہ حروف اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے درمیان راز و نیاز ہیں اور یہ ایسے اسرار و رموز ہیں جنہیں دوسرے کو سمجھانامقصود نہیں۔اگر یہ راز حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معلوم نہ ہو ں تو پھر غیر مفید کلام سے خطاب کرنا لازم ائے گا اور یہ بعید ہے۔(تفسیر بیضاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۱ ۱ / ۹۳) امام خفاجی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’(انوارالتنزیل کے)بعض نسخوں میں ’’استاثرہ اللہ بعلمہ‘‘ ہے اور(استاثرہ کی) ضمیر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے ہے اور ’’با‘‘ مقصور پر داخل ہے یعنی اللہ تعالی نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اپنے علم سے (خاص کرکے)معزز و مکرم فرمایایعنی مقطعات کاعلم صرف اللہ تعالی اور ا س کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حاصل ہے۔اس معنی کو اکثر سلف اور محققین نے پسند فرمایا ہے۔(عنایۃ القاضی البقرۃ تحت الایۃ: ۱ ۱ / ۱۷۸ مختصرا انباء الحی مطلب المتشابہات معلومۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ص۵۲-۵۳) علامہ محمود الوسی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ غالب گمان یہ ہے کہ حروف مقطعات مخفی علم اور سربستہ راز ہیں جن کے ادراک سے علماء عاجز ہیں جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا اور خیالات اس تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور اسی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:ہر کتاب کے راز ہوتے ہیں اور قران مجید کے راز سورتوں کی ابتداء میں انے والے حروف ہیں۔اورامام شعبی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : یہ حروف اللہ تعالی کے اسرار ہیں تو ان کاکھوج نہ لگاو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد ان کی معرفت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علوم کے وارث اولیاء کرام کو ہےانہیں اسی بارگاہ سے (ان اسرار کی) معرفت حاصل ہوتی ہے اور کبھی یہ حروف خود انہیں اپنا معنی بتا دیتے ہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں میں کنکریوں نے تسبیح کے ذریعے کلام کیا اور گوہ اور ہرن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہم کلام ہوئے جیسا کہ ہمارے اباو اجداد یعنی اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم سے یہ بات (حروف مقطعات کا علم ہونا) صحت سے ثابت ہے بلکہ جب کوئی بندہ قرب نوافل کے درخت کا پھل چنتا ہے تو وہ ان حروف کو اور اس کے علاوہ کے علم کو اللہ تعالی کے علم کے ذریعے جان لیتا ہے۔اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر ان کا کوئی مفہوم نہ ہو تو ان کے ساتھ خطاب مہمل خطاب کی طرح ہو گا۔‘‘یہ بات ہی مہمل ہے اگرچہ اسے کہنے والاکوئی بھی ہو کیونکہ اگر تمام لوگوں کو سمجھانا مقصود ہو تو یہ ہم تسلیم نہیں کرتے اور اگر صرف ان حروف کے مخاطب کو سمجھانا مقصود ہو اور وہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں تو اس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا (کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کا معنی جانتے ہیں )اور اگر اس سے بعض لوگوں کو سمجھانا مقصود ہے تو ارباب ذوق کو ان کی معرفت حاصل ہے اور وہ الحمد للہ امت محمدیہ میں کثیر ہیں اور ہم جیسوں کا ان کی مراد نہ جاننا نقصان دہ نہیں کیونکہ ہم تو ان بہت سے افعال کی حکمت بھی نہیں جانتے جن کے ہم مکلف ہیں جیسے جمرات کی رمی کرنا صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنارمل اور اضطباع وغیرہ اور ان جیسے احکام میں اطاعت کرنا سر تسلیم خم کرنے کی انتہا پر دلالت کرتا ہے۔(روح المعانی البقرۃ تحت الایۃ: ۱ ۱ / ۱۳۶-۱۳۷) {لا ریب: کوئی شک نہیں۔}ایت کے اس حصے میں قران مجید کا ایک وصف بیان کیاگیا کہ یہ ایسی بلند شان اور عظمت و شرف والی کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ شک اس چیز میں ہوتا ہے جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نہ ہو جبکہ قرآن پاک اپنی حقانیت کی ایسی واضح اور مضبوط دلیلیں رکھتا ہے جو ہر صاحب انصاف اورعقلمند انسان کو اس بات کا یقین کرنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ یہ کتاب حق ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی ہے تو جیسے کسی اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل مخالف کے شک اور انکار کرنے سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔ {هدى للمتقین :ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔} ایت کے اس حصے میں قران مجید کا ایک اور وصف بیان کیا گیا کہ یہ کتاب ان تمام لوگوں کو حق کی طرف ہدایت دیتی ہے جو اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں اور جو لوگ نہیں ڈرتے انہیں قران پاک سے ہدایت حاصل نہیں ہوتی۔یاد رہے کہ قرآن پاک کی ہدایت و رہنمائی اگرچہ مومن اور کافر ہر شخص کے لیے عام ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی ایت نمبر 185 میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’هدى للناس‘‘ یعنی قران مجید تمام لوگوں کیلئے ہدایت ہے۔لیکن چونکہ قران مجید سے حقیقی نفع صرف متقی لوگ حاصل کرتے ہیں اس لیے یہاں ’’هدى للمتقین‘‘ یعنی ’’ متقین کیلئے ہدایت‘‘ فرمایا گیا۔( ابو سعود البقرۃ تحت الایۃ: ۲ ۱ / ۳۲) تقوی کا معنی: تقوی کا معنی ہے:’’ نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔‘‘ اور شریعت کی اصطلاح میں تقوی کا معنی یہ ہے کہ نفس کو ہر اس کام سے بچانا جسے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی شخص عذاب کا مستحق ہو جیسے کفر وشرککبیرہ گناہوں بے حیائی کے کاموں سے اپنے اپ کو بچاناحرام چیزوں کو چھوڑ دینا اورفرائض کو ادا کرنا وغیرہ اوربزرگان دین نے یوں بھی فرمایا ہے کہ تقوی یہ ہے کہ تیراخدا تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ہے۔ (مدارک البقرۃ تحت الایۃ: ۲ ص۱۹ خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲ ۱ / ۲۲ ملتقطا) تقوی کے فضائل: قران مجید اور احادیث میں تقوی حاصل کرنے اور متقی بننے کی ترغیب اور فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ یایها الذین امنوا اتقوا الله حق تقته و لا تموتن الا و انتم مسلمون‘‘ (ال عمران: ۱۰۲) ترجمہ کنزالعرفان:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ائے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’یایها الذین امنوا اتقوا الله و قولوا قولا سدیدا(۷۰) یصلح لكم اعمالكم و یغفر لكم ذنوبكم-و من یطع الله و رسوله فقد فاز فوزا عظیما‘‘(احزاب: ۷۰-۷۱) ترجمہ کنزالعرفان:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہاکرو۔ اللہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔ حضرت عطیہ سعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کوئی بندہ اس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہو گا جب تک کہ وہ نقصان نہ دینے والی چیز کو کسی دوسری نقصان والی چیز کے ڈر سے نہ چھوڑ دے۔(یعنی کسی جائز چیز کے ارتکاب سے ممنوع چیز تک نہ پہنچ جائے۔ )(ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ ۱۹-باب ۴ / ۲۰۴-۲۰۵ الحدیث: ۲۴۵۹) حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارا رب عزوجل ایک ہے تمہارا باپ ایک ہے اور کسی عربی کوعجمی پر فضیلت نہیں ہے نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے مگر صرف تقوی سے۔(معجم الاوسط ۳ / ۳۲۹ الحدیث: ۴۷۴۹) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارا رب عزوجل ارشاد فرماتا ہے:اس بات کا مستحق میں ہی ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور جو مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ (دارمی کتاب الرقاق باب فی تقوی اللہ ۲ / ۳۹۲ الحدیث: ۲۷۲۴) تقوی کے مراتب: علماء نے ’’تقوی ‘‘کے مختلف مراتب بیان فرمائے ہیں جیسے عام لوگوں کا تقوی ’’ایمان لا کر کفر سے بچنا‘‘ہے متوسط لوگوں کا تقوی ’’احکامات کی پیروی کرنا‘‘ اور’’ ممنوعات سے رکنا ‘‘ہے اور خاص لوگوں کا تقوی ’’ہر ایسی چیز کو چھوڑ دینا ہے جو اللہ تعالی سے غافل کرے۔‘‘( جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۲ ۱ / ۱۷) اوراعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے فرمان کے مطابق تقوی کی سات قسمیں ہیں : (۱) کفر سے بچنا۔ (۲) بدمذہبی سے بچنا۔ (۳) کبیرہ گناہ سے بچنا۔ (۴) صغیرہ گناہ سے بچنا۔(۵) شبہات سے پرہیز کرنا۔ (۶) نفسانی خواہشات سے بچنا۔ (۷) اللہ تعالی سے دورلے جانے والی ہر چیز کی طرف توجہ کرنے سے بچنا اور قرآن عظیم ان ساتوں مرتبوں کی طرف ہدایت دینے والا ہے ۔(خزائن العرفان البقرۃ تحت الایۃ: ۲ ص۴ ملخصا) اللہ تعالی ہمیں متقی اور پرہیز گار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین