Surah Al Baqarah Ayat 121 (2:121)
The Cow · Juz 1 · Madani
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 121
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے تووہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا انکار کریں تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہیے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{یتلونه: وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا :یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جوحضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تھے ان کی تعداد چالیس تھی بتیس اہل حبشہ اور آٹھ شامی راہب تھے ان میں بحیر اراہب بھی تھے جنہوں نے بچپن میں سفر شام میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو پہچانا تھا۔ (خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۲۱ ۱ / ۸۴-۸۵) ایت کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں توریت شریف پر ایمان لانے والے وہی ہیں جو اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور بغیر تحریف و تبدیل کئے پڑھتے ہیں اور اس کے معنی کو سمجھتے اور مانتے ہیں اور اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ کر اپ پر ایمان لاتے ہیں اورجو حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منکر ہوتے ہیں وہ توریت پر ایمان نہیں رکھتے۔ قران مجید کے حقوق: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کے بہت سے حقوق بھی ہیں۔ قران کا حق یہ ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اس سے محبت کی جائے اس کی تلاوت کی جائے اسے سمجھا جائے اس پر ایمان رکھا جائے اس پر عمل کیا جائے اور اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔ ترغیب کے لئے یہاں ہم تلاوت قران کے چند ظاہری اور باطنی اداب ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمان قران عظیم کی اس طرح تلاوت کریں جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے۔ تلاوت قران کے ظاہری اداب: قران مجید کی تلاوت کرنے والے کو درج ذیل 6ظاہری چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ (1)… با وضو ہو کرقبلہ رو ہو کر مودب ہو کر اور عجز و انکساری کے ساتھ بیٹھے۔ (2)…اہستہ پڑھے اور ا س کے معانی میں غورو فکر کرے تلاوت قران کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے۔ (3)…دوران تلاوت رونا بھی چاہئے اور اگر رونا نہ ائے رونے جیسی شکل بنا لے ۔ (4)…ہر ایت کی تلاوت کا حق بجالائے ۔ (5)…اگر قراء ت سے ریاکاری کا اندیشہ ہو یا کسی کی نماز میں خلل پڑتا ہو تو اہستہ اہستہ تلاوت کرے۔ (6)…جہاں تک ممکن ہو قران پاک کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھے۔ تلاوت قران کے باطنی اداب: قران کریم کی تلاوت کرنے والے کو درج ذیل 6باطنی چیزوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ (1)…قران مجید کی عظمت دل میں بٹھائے ۔ (2)…قران مجید پڑھنے سے پہلے اللہ تعالی کی عظمت دل میں بٹھائے اور خیال کرے کہ یہ کس عظیم ذات کا کلام ہے اور میں کس بھاری کام کے لئے بیٹھا ہوں۔ (3)…قران کریم کے تلاوت کرتے وقت دل کو حاضر رکھے ادھر ادھر خیال نہ کرے برے خیالات سے دل کو الودہ نہ کرے اور جو بے خیالی میں پڑھ چکا اسے از سر نو توجہ سے پڑھے۔ (4)…ہر حکم کے معنی میں غورو فکر کرے اگر سمجھ میں نہ ائے تو اسے بار بار پڑھے اور اگر کسی ایت کے پڑھنے سے لذت محسوس ہو تو اسے پھر پڑھے کہ یہ دوبارہ پڑھنا زیادہ تلاوت کرنے سے بہتر ہے۔ (5)…جس طرح ایات کا مضمون تبدیل ہوتا رہے اسی طرح مضمون کے مطابق دل کی کیفیت بھی بدلتی رہے اور قران کے رنگ میں رنگتی جائے۔ (6)…قران مجید کی تلاوت اس طرح کرے کہ گویا یہ قران اللہ تعالی کی بارگاہ سے سن رہا ہے اور خیال کرے کہ ابھی اس ذات کی جانب سے سن رہا ہوں۔(کیمیاء سعادتکتاب ارکان مسلمانی اصل ہشتم قران خواندن اداب تلاوت ۲۴۱-۲۴۷ ملخصا)