Surah Al Baqarah Ayat 127 (2:127)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 127
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں بلند کررہے تھے(یہ دعا کرتے ہوئے) اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما ،بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب اٹھاتا تھا ابراہیم اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل یہ کہتے ہوئے کہ اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ یرفع: اور جب بلند کررہے تھے۔} پہلی مرتبہ خانہ کعبہ کی بنیاد حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی اور طوفان نوح کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی بنیاد پر تعمیر فرمایا۔ یہ تعمیر خاص آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک سے ہوئی اس کے لیے پتھر اٹھا کر لانے کی خدمت و سعادت حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو میسر ہوئی دونوں حضرات نے اس وقت یہ دعا کی کہ یارب !عزوجلہماری یہ طاعت و خدمت قبول فرما۔علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بخاری کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیردس مرتبہ کی گئی۔(ارشاد الساری کتاب الحج باب فضل مکۃ وبنیانھا۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۳ تحت الحدیث: ۱۵۸۲) اسے نقل کرنے کے بعد علامہ سلیمان جمل رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ۱۰۳۹ ہجری کے بعد بھی بعض بادشاہوں نے تعمیرکعبہ کی جیساکہ اسے بعض تاریخ دانوں نے نقل کیا ہے ۔(جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۱۲۷ ۱ / ۱۶۰) مسجد تعمیر کرنا اعلی عبادت ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ مسجدوں کی تعمیر نہایت اعلی عبادت اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مسجد نبوی شریف کی تعمیر میں بذات خود حصہ لیا تھا۔(بخاری کتاب مناقب الانصار باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ الی المدینۃ ۲ / ۵۹۵ الحدیث: ۳۹۰۶) مسجد تعمیر کرنے کے فضائل سورہ توبہ ایت نمبر18کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔