Surah Al Baqarah Ayat 130 (2:130)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ 130
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ابراہیم کے دین سے وہی منہ پھیرے گا جس نے خود کواحمق بنا رکھا ہو اور بیشک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارا خاص قرب پانے والوں میں سے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و من یرغب: اور جو منہ پھیرے۔} علماء یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام لانے کے بعد اپنے دو بھتیجوں مہاجر و سلمہ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں اولاد اسمعیل سے ایک نبی پیدا کروں گا جن کا نام احمد ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا وہ کامیاب ہے اور جو ایمان نہ لائے گا وہ ملعون ہے۔یہ سن کر سلمہ ایمان لے آئے اور مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اس رسول معظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تو جوان کے دین سے پھرے وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے دین سے پھرا۔ اس میں یہود و نصاری اور مشرکین عرب پر اشارۃ کلام ہے جو اپنے آپ کوفخر کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرتے تھے کہ جب یہ لوگ دین ابراہیمی سے پھر گئے تو پھر ان کی عظمت و شرافت کہاں رہی۔(جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۱۳۰ ۱ / ۱۶۱-۱۶۲) یہ بھی معلوم ہوا کہ سچے دین کی پہچان یہ ہے کہ وہ سلف صالحین کا دین ہو یہ حضرات ہدایت کی دلیل ہیں اللہ تعالی نے حقانیت اسلام کی دلیل یہاں دی کہ وہ ملت ابراہیمی ہے۔ {اصطفینه: ہم نے اسے چن لیا۔} اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو رسالت و خلت کیلئے چن لیا یعنی اپ کواپنا رسول اور خلیل بنایا۔