Surah Al Baqarah Ayat 155 (2:155)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ 155
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و لنبلونكم: اور ہم تمہیں ضرور ازمائیں گے۔} آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔ امام شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے بقول خوف سے اللہ تعالی کا ڈر بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوۃ و صدقات دینا جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہےجیساکہ حدیث شریف میں ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے:’’ تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی ۔وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں یارب! عزوجل پھر فرماتا ہے:’’ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ۔وہ عرض کرتے ہیں :ہاں یارب! عز وجل اللہ تعالی فرماتا ہے: اس پر میرے بندے نے کیا کہا فرشتے عرض کرتے ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’انا لله و انا الیه رجعون‘‘ پڑھا اللہ تعالی فرماتا ہے:’’ اس کے لیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔‘‘(ترمذی کتاب الجنائز باب فضل المصیبۃ اذا احتسب ۲ / ۳۱۳ الحدیث: ۱۰۲۳) ازمائشیں اور صبر: یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر ازمائشیں ہیں اللہ تعالی اپنے بندوں کو کبھی مرض سے کبھی جان و مال کی کمی سے کبھی دشمن کے ڈر خوف سے کبھی کسی نقصان سے کبھی افات و بلیات سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے ازماتا ہے اور راہ دین اور تبلیغ دین تو خصوصا وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر ازمائشیں ہیں اسی سے فرمانبردار و نافرمان محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام پر اکثرقوم کا ایمان نہ لانا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا اگ میں ڈالا جانا فرزند کو قربان کرنا حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا مصرسے مدین جانا مصر سے ہجرت کرنا حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ستایا جانا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا شہید کیا جانا یہ سب ازمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی ازمائشیں اور صبر ہر مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں لہذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت ائے اوروہ کسی تکلیف یا اذیت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ( وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا( استقبال کرتے ہیں ) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف ائے تو )صبر و استقلال سے کام لیں اور جزع و فزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے اتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ (جانے) دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے ائی ہو ئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب(جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے) سے محرومی دوہری مصیبت ہے۔(بہار شریعت کتاب الجنائز بیماری کا بیان ۱ / ۷۹۹) اور کثیر احادیث میں مسلمان پر مصیبت انے کا جو ثواب بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث یہ ہیں چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔(بخاری کتاب المرضی باب شدۃ المرض ۴ / ۴ الحدیث: ۵۶۴۶) حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو تکلیف رنج ملال اور اذیت و غم پہنچے یہاں تک کہ ا س کے پیر میں کوئی کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالی ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (بخاری کتاب المرضی باب ما جاء فی کفارۃ المرض ۴ / ۳ الحدیث: ۵۶۴۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ مسلمان مرد و عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملتا ہےکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء فی الصبر علی البلاء ۴ / ۱۷۹ الحدیث: ۲۴۰۷) حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو ارام و سکون والے تمنا کریں گے کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ (ترمذی کتاب الزہد ۵۹-باب ۴ / ۱۸۰ الحدیث: ۲۴۱۰)