Surah Al Baqarah Ayat 167 (2:167)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّاؕ-كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ 167
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور پیروکار کہیں گے اگر ہمیں ایک مرتبہ لوٹ کرجانا مل جائے تو ہم ان پیشواؤں سے ایسے ہی بیزار ہوجاتے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں۔ اللہ اسی طرح انہیں ان کے اعمال ان پر حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں )تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{لو ان لنا كرة: اگر ہمیں ایک مرتبہ لوٹ کر جانا مل جاتا۔} کافر انتہائی تمنا کریں گے کہ کاش انہیں ایک مرتبہ دنیا میں لوٹ کر جانا مل جائے تو اولا اپنے پیشواوں سے بیزاری کا اظہار کرلیں مزید اپنے باطل معبودوں سے بیزار ہوجائیں اور تیسرا ایمان لا کر نیک اعمال کرلیں۔ کافروں کی موت کے وقت بھی ایسی ہی تمنائیں ہوتی ہیں جیسا کہ سورہ مومنون ایت 99اور100میں ہے کہ کافر کہے گا اے اللہ مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں کچھ تو نیکی کرلوں۔ یونہی سورہ زمر ایت 58 میں ہے کہ کافر کہے گا اے کاش کہ مجھے ایک مرتبہ واپسی مل جائے تاکہ میں نیکیاں کرلوں۔ اس طرح کا مضمون پارہ 24 سورہ زمراور سورہ مومن میں کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔ نیک اعمال کی حسرت کرنے والے لوگ: یاد رہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کی اصل حسرت تو کافر ہی کو ہوگی لیکن مسلمان بھی نیکیوں کی کمی اور گناہوں میں ملوث ہونے پر حسرت کا اظہار کریں گے جیسے حدیث مبارک ہے ’’نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مرنے والے کو افسوس و ندامت ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا ندامت ہوگی فرمایا: اگر نیک ہوگا تو زیادہ نیکیاں نہ کرنے پر نادم ہوگا اوراگر گنہگار ہوگا توگناہوں سے باز نہ انے پر نادم ہوگا۔(ترمذی کتاب الزہد ۵۹-باب ۴ / ۱۸۱ الحدیث: ۲۴۱۱) حسرت کی اور بھی صورتیں ہوں گی جیسے دوسروں پر ظلم کرنے اور انہیں تکلیف دینے والوں کو ڈھیروں ڈھیر نیکیوں کے باوجود حسرت ہوگی کیونکہ ان کی نیکیاں دوسروں کو دیدی جائیں گی۔(مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم ص۱۳۹۴ الحدیث: ۵۹(۲۵۸۱)) جسے طلب علم کا موقع ملا لیکن علم حاصل نہ کیا اسے حسرت ہو گی۔(ابن عساکر حرف المیم محمد بن احمد بن جعفر۔۔۔ الخ۵۱ / ۱۳۷) کسی جگہ جمع ہونے والے لوگ اللہ تعالی کا ذکر کئے بغیر اٹھ گئے تو وہ مجلس ان کے لئے حسرت ہوگی۔(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزہد کلام عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ۸ / ۱۸۹ الحدیث: ۴) {كذلك یریهم الله اعمالهم: اللہ اسی طرح انہیں ان کے اعمال دکھائے گا۔} قیامت کے دن اللہ تعالی کافروں کے برے اعمال ان کے سامنے کرے گا تو انہیں نہایت حسرت ہوگی کہ انہوں نے یہ کام کیوں کئے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ جنت کے مقامات دکھا کر ان سے کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرتے تو یہ تمہارے لیے تھے پھر جنت کی وہ عالیشان منزلیں مومنین کو دیدی جائیں گی ۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۶۷ ۱ / ۱۱۰)