Surah Al Baqarah Ayat 188 (2:188)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 188
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔} اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔(احکام القران باب ما یحلہ حکم الحاکم وما لا یحلہ۱ / ۳۰۴) مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز فائدہ کے لیے کسی پر مقدمہ بنانا اور اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے۔ اسی طرح اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لیے حکام پر اثر ڈالنا رشوتیں دینا حرام ہے ۔حکام تک رسائی رکھنے والے لوگ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص ملعون ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ دھوکہ کرے۔(تاریخ بغداد باب محمد محمد بن احمد بن محمد بن جابر۔۔۔ الخ۱ / ۳۶۰ رقم: ۲۶۲) یہ بھی معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی جھوٹی وکالت جھوٹے مقدمہ کی پیروی و کوشش کی اجرتیں حرام ہیں۔ حرام کے بارے میں اگے تفصیل سے بیان ائے گا۔