Surah Al Baqarah Ayat 190 (2:190)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ 190
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و قاتلوا فی سبیل الله:اوراللہ کی راہ میں لڑو۔} 6ہجری میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اس سال حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مدینہ طیبہ سے عمرے کے ارادے سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے مشرکین نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا اور اس پر صلح ہوئی کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آئندہ سال تشریف لائیں تو آپ کے لیے تین روز کیلئے مکہ مکرمہ خالی کردیا جائے گا چنانچہ اگلے سال7ہجری میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عمرے کی قضاء کے لیے تشریف لائے ۔اب حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار چار سوصحابہ رضی اللہ تعالی عنہم تھے ۔مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ کفار نے اگر وعدہ پورا نہ کیا اور حرم مکہ میں حرمت والے مہینے ذی القعدہ میں جنگ کی تو مسلمان چونکہ حالت احرام میں ہوں گے اس لئے اس حالت میں جنگ کرنا ان کیلئے بڑا مشکل تھا کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ابتدائے اسلام تک نہ حرم میں جنگ جائز تھی اورنہ حرمت والے مہینوں میں لہذا انہیں تردد ہوا کہ اس وقت جنگ کی اجازت ملتی ہے یا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۸۹ ۱ / ۱۳۰) ایت میں اجازت کا معنی یا تو یہ ہے کہ جو کفار تم سے لڑیں یا جنگ کی ابتداء کریں تم ان سے دین کی حمایت اور اعزاز کے لیے لڑو یہ حکم ابتداء اسلام میں تھاپھر منسوخ کیا گیا اور کفار سے قتال کرنا واجب ہوا خواہ وہ ابتداء کریں یا نہ کریں یا یہ معنی ہے کہ ان سے لڑو جو تم سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ بات سارے ہی کفار میں ہے کیونکہ وہ سب دین کے مخالف اور مسلمانوں کے دشمن ہیں خواہ انہوں نے کسی وجہ سے جنگ نہ کی ہو لیکن موقع پانے پرچوکنے والے نہیں۔ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کافر میدان جنگ میں تمہارے مقابلے پر آئیں اور وہ تم سے لڑنے کی قدرت اور اہلیت رکھتے ہوں تو ان سے لڑو۔ اس صورت میں ضعیف بوڑھے بچے مجنون اپاہج اندھے بیمار اور عورتیں وغیرہ جو جنگ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے(اور وہ جنگ میں نہ تو شریک ہیں اور نہ ہی جنگ کرنے والوں کی کسی قسم کی مدد کر رہے ہیں تو یہ افراد) اس حکم میں داخل نہ ہوں گے اور انہیں قتل کرنا جائز نہیں۔ (تفسیرات احمدیہ البقرۃ تحت الایۃ: ۱۹۰ ص۸۰) {و لا تعتدوا: اور زیادتی نہ کرو۔}اس سے مراد ہے کہ جو جنگ کے قابل نہیں ان سے نہ لڑو یا جن سے تم نے عہد کیا ہو یا بغیر دعوت کے جنگ نہ کرو کیونکہ شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دی جائے اگروہ ا نکار کریں توان سے جزیہ طلب کیاجائے اور اگرا س سے بھی انکار کریں تب جنگ کی جائے۔ اس معنی پر آیت کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں۔(تفسیرات احمدیہ البقرۃ تحت الایۃ: ۱۹۰ ص۸۱)