Surah Al Baqarah Ayat 198 (2:198)
The Cow · Juz 2 · Madani
لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۪-وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْۚ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ 198
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اس کا ذکر کروکیونکہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اگرچہ اس سے پہلے تم یقینابھٹکے ہوئے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو جب عرفات سے پلٹو تو اللہ کی یاد کرو مشعر حرام کے پاس اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک تم اس سے پہلے بہکے ہوئے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{لیس علیكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ }شان نزول: بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ راہ حج میں جس نے تجارت کی یا اونٹ کرایہ پر چلائے اس کا حج ہی ضائع ہوگیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ابو داود کتاب المناسکباب الکری ۲ / ۱۹۸ الحدیث: ۱۷۳۳) اس سے معلوم ہوا کہ جب تک تجارت سے افعال حج کی ادا میں فرق نہ آئے اس وقت تک تجارت کی اجازت ہے۔نیز یہاں مال کو رب عزوجل کافضل قرار دیا ہےاس سے معلوم ہوا کہ مال فی نفسہ بری چیز نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال برا ہے۔ ہزاروں نیکیاں صرف مال کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہیں جیسے زکوۃ و صدقات و حج و عمرہ وغیرہ۔ {فاذا افضتم من عرفت: تو جب تم عرفات سے واپس لوٹو۔} عرفات ایک مقام کا نام ہے جوحج میں وقوف (یعنی ٹھہرنے) کی جگہ ہے ۔ مشہور مفسر ضحاک کا قول ہے کہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا جدائی کے بعد 9ذی الحجہ کو عرفات کے مقام پر جمع ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو پہچانا اس لیے اس دن کا نام عرفہ اور مقام کانام عرفا ت ہوا۔(تفسیر قرطبی البقرۃ تحت الایۃ: ۱۹۸ ۱ / ۳۲۰ الجزء الثانی) ایک قول یہ ہے کہ چونکہ اس روز بندے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اس لئے اس دن کا نام عرفہ ہے۔ (خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۹۸ ۱ / ۱۴۰) حاجی کیلئے9ذی الحجہ کے زوال افتاب سے لے کر 10ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے تک کم از کم ایک لمحے کیلئے عرفات میں وقوف فرض ہے ۔(بہار شریعتحصہ ششم ۱ / ۱۱۴۷) اور 9تاریخ کواتنی دیر وقوف کرنا کہ وہیں سورج غروب ہوجائے یہ واجب ہے۔ (عالمگیری کتاب المناسک الباب الخامس ۱ / ۲۲۹) {عند المشعر الحرام: مشعر حرام کے پاس۔}مشعرحرام مزدلفہ میں وہ جگہ ہے جہاں امام حج وقوف مزدلفہ کرتا ہے۔ مزدلفہ میں واقع وادی محسرکے سوا تمام مزدلفہ وقوف کا مقام ہے ۔ مزدلفہ میں رات گزارنا سنت ہے اور فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر طلوع افتاب کے دوران کم از کم ایک لمحے کیلئے وہاں ٹھہرنا واجب ہے ۔ بغیر عذر وقوف مزدلفہ ترک کرنے سے د م لا زم اتا ہے اور مشعر حرام کے پاس وقوف افضل ہے ۔مزدلفہ میں وقوف کے دوران تلبیہ تہلیل و تکبیر اور ثناء و دعا وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے۔ 9ذوالحجہ کو مزدلفہ میں نما ز مغرب وعشاء کو ملا کر عشاء کے وقت میں پڑھنا ہوتا ہے۔ {و اذكروه: اور اسے یاد کرو۔} فرمایا گیا کہ تم ذکر و عبادت کا طریقہ نہ جا نتے تھے اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ذریعے تمہیں عبادت کے طریقے سکھائے لہذا اس نعمت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرو ۔