Surah Al Baqarah Ayat 254 (2:254)
The Cow · Juz 3 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌؕ-وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 254
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت ہوگی اور کافر ہی ظالم ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید فروخت ہے ، نہ کافروں کے لئے دوستی، نہ شفاعت اور کافر خود ہی ظالم ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{انفقوا مما رزقنكم: ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو۔}فکر اخرت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کے انے سے پہلے پہلے راہ خدا میں اللہ تعالی کا دیا ہوا مال خر چ کرلو۔ قیامت کا دن بڑی ہیبت والا ہے اس دن مال کسی کو بھی فائدہ نہ دے گا اور دنیوی دوستیاں بھی بیکار ہوں گی بلکہ باپ بیٹے بھی ایک دوسرے سے جان چھڑا رہے ہوں گے اور کافروں کو کسی کی سفارش کام نہ دے گی اور نہ دنیوی انداز میں کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔ صرف اذن الہی سے اللہ تعالی کے مقبول بندے شفاعت کریں گے جیسا کہ اگلی ایت یعنی ایت الکرسی میں ارہا ہے اور مال کا فائدہ بھی اخرت میں اسی صورت میں ہے جب دنیا میں اسے نیک کاموں میں خرچ کیا ہو اور دوستیوں میں سے بھی نیک لوگوں کی دوستیاں کام ائیں گی جیسا کہ سورہ زخرف میں ہے: الاخلآء یومىذۭ بعضهم لبعض عدو الا المتقین(زخرف:۶۷) ترجمہ کنزالعرفان: پرہیزگاروں کے علاوہ اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ {و الكفرون هم الظلمون: اور کافر ہی ظالم ہیں۔}ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو غلط جگہ استعمال کرنا۔ کافروں کا ایمان کی جگہ کفر اور طاعت کی جگہ معصیت اور شکر کی جگہ ناشکری کواختیار کرنا ان کا ظلم ہے اور چونکہ یہاں ظلم کا سب سے بدتر درجہ مراد ہے اسی لئے فرمایا کہ کافر ہی ظالم ہیں۔