Surah Al Baqarah Ayat 262 (2:262)
The Cow · Juz 3 · Madani
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 262
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کانیگ ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
Tafseer (Urdu)
{الذین ینفقون اموالهم فی سبیل الله: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔} شان نزول : یہ آیت حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ تعالی عنہما کے حق میں نازل ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ایک ہزار اونٹ بمع سازوسامان کے پیش کئے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے چار ہزار درہم صدقہ کے طور پربارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے ان میں سے ادھے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے ر کھ لیے اور ادھے راہ خدا میں پیش کردئیے ہیں۔ سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جو تم نے دیئے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالی دونوں میں برکت فرمائے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۶۲ ۱ / ۲۰۶) {منا و لا اذى: نہ احسان جتائیں اور نہ تکلیف دیں۔} صدقہ دینے کے بعداحسان جتلانا اور جسے صدقہ دیا اسے تکلیف دینا ناجائز و ممنوع ہے اور اس سے صدقے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ ایت 264 میں فرمایا کہ احسان جتلا کر اور ایذاء دے کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ احسان جتلانا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور یوں اس کا دل میلا کریں اور تکلیف دینا یہ ہے کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا مفلس تھا مجبور تھا نکما تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح اس پر دباو ڈالیں۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۶۲ ۱ / ۲۰۶)