Surah Al Baqarah Ayat 27 (2:27)
The Cow · Juz 1 · Madani
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ الذین ینقضون عهد الله :وہ جو اللہ کا عہد توڑتے ہیں۔} اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالی نے گزشتہ اسمانی کتابوں میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے کے متعلق فرمایا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں : پہلا عہد وہ جو اللہ تعالی نے تمام اولاد آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں اس کا بیان سورہ اعراف ایت 172 میں ہے۔ دوسرا عہد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین قائم کریں اس کا بیان سورہ احزاب ایت 7 میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں اس کا بیان سورہ ال عمران ایت 187 میں ہے۔ {ما امر الله به:جس چیزکااللہ نے حکم دیا ۔} جن چیزوں کے ملانے کا حکم دیا گیا وہ یہ ہیں : (۱)رشتے داروں سے تعلقات جوڑنا(۲)مسلمانوں کے ساتھ دوستی و محبت کرنا (۳) تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ماننا (۴)تمام کتابوں کی تصدیق کرنا اورحق پر جمع ہونا۔ ان کو قطع کرنے کا معنی ہے رشتے داروں سے تعلق توڑنا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو نہ ماننا اور اللہ تعالی کی کتابوں کی تصدیق نہ کرنا۔(تفسیر بیضاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۲۷ ۱ / ۲۶۶)