Surah Al Baqarah Ayat 284 (2:284)
The Cow · Juz 3 · Madani
لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 284
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزادے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزادے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ان تبدوا ما فی انفسكم: اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو۔} انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک بطور وسوسہ کے اور ایک بطور عزم و ارادہ کے۔ وسوسوں سے دل کو خالی کرنا انسان کی قدرت میں نہیں لیکن ادمی انہیں برا سمجھتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں کرتا ان کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں اس پر مواخذہ نہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا: کہ میری امت کے دلوں میں جو وسوسے اتے ہیں اللہ تعالی ان سے تجاوز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا انہیں اپنے کلام میں نہ لائیں۔(بخاری کتاب العتق باب الخطاوالنسیان فی العتاقۃ۔۔۔ الخ ۲ / ۱۵۳ الحدیث: ۲۵۲۸) یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں۔ دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و ارادہ کرتا ہے ان پر مواخذہ ہو گا اور انہی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اپنے دلوں میں موجود چیز کو تم ظاہر کرو یا چھپاو اللہ تعالی تمہارا ان پر محاسبہ فرمائے گا۔ حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’جو برا خیال دل میں بے اختیار اور اچانک اجاتا ہےاسے ہاجس کہتے ہیں یہ انی فانی ہوتا ہے ایا اور گیا۔یہ پچھلی امتوں پر بھی معاف تھا اور ہمیں بھی معاف ہے لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر معاف ہے پچھلی امتوں پر معاف نہ تھا۔اگر اس(برے خیال) کے ساتھ دل میں لذت اور خوشی پیدا ہو تو اسے’’ہم‘‘کہتے ہیں اس پر بھی پکڑ نہیں اور اگر ساتھ ہی کر گزرنے کا پختہ ارادہ بھی ہو تو وہ عزم ہے اس کی پکڑ ہے۔ (اشعۃ اللمعات کتاب الایمان باب الوسوسۃ الفصل الاول ۱ / ۸۵-۸۶) کفر اور گناہ کے عزم کا شرعی حکم : یاد رہے کہ کفرکا عزم کرنا کفر ہے۔ (فتاوی رضویہ ۱۵ / ۲۹۳) لہذا اگر کسی نے سو سال بعد بھی کفر کرنے کا ارادہ کیا وہ ارادہ کرتے ہی کافر ہوجائے گا۔ اور گناہ میں حکم یہ ہے کہ گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد وارادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اسباب اس کومیسر نہ اسکیں اور مجبورا وہ اس کو نہ کر سکے تواکثر علماء کے نزدیک اس سے مواخذہ کیا جائے گا۔ امام ابو منصور ماتریدی رحمۃاللہ تعالی علیہ کا یہی موقف ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ایت ہے : ’’ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشة فی الذین امنوا لهم عذاب الیم-فی الدنیا و الاخرة‘‘(نور: ۱۹) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ نیزاس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا کہ بندہ جس گناہ کا قصد کرتا ہے اگر وہ عمل میں نہ آئے جب بھی اس پر عقاب کیا جاتا ہے۔(در منثور البقرۃ تحت الایۃ: ۲۸۴ ۲ / ۱۳۱) ہاں اگر بندے نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اس پر نادم ہوا اور استغفار کیا تو اللہ تعالی اس کو معاف فرمائے گا۔ شیطان کی انسان دشمنی: یاد رہے کہ انسان کے دل میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور بعض اوقات یہ وسوسے اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ انسان کے لئے اپنا دین و ایمان بچانا مشکل ہوجاتا ہے جیسے شیطان کبھی اللہ تعالی کے بارے میں کبھی تقدیر کے بارے میں کبھی ایمانیات کے بارے میں کبھی عبادات کے بارے میں کبھی طہارت و پاکیزگی کے معاملات کے بارے میں اور کبھی طلاق کے بارے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ حضرت یحیی بن معاذ رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’شیطان فارغ ہے اور تم مشغول ومصروف ہو ۔ شیطان تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ تم شیطان کو بھولے بیٹھے ہو مگر وہ تمہیں برائی میں مبتلاء کرنے سے نہیں بھولا ۔تمہارا نفس خود تمہارا دشمن و مخالف ہے اور شیطان کا مددگار ہے اس لئے شیطان اور اس کے حامیوں سے جنگ کرنا اور انہیں مغلوب کرنا بہت ضروری ہے ورنہ اس کے فتنہ و فساد اور ا س کی ہلاکت و بربادی سے بچنا بہت مشکل ہے۔ (منہاج العابدین العقبۃ الثالثۃ العائق الثالثۃ ص۵۵) سرور دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر نفس و شیطاں سیدا کب تک دباتے جائیں گے