Surah Al Baqarah Ayat 29 (2:29)
The Cow · Juz 1 · Madani
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہی ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا پھر اس نے آسمان کے بنانے کاقصد فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اوروہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف اِسْتِوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اور وہ سب کچھ جانتا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{هو الذی خلق لكم:وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا۔} تمام انسانوں کو فرمایا گیا کہ زمین میں جو کچھ دریا پہاڑ کانیں کھیتی سمندر وغیرہ ہیں سب کچھ اللہ تعالی نے تمہارے دینی و دنیاوی فائدہ کے لیے بنایا ہے۔ دینی فائدہ تو یہ ہے کہ زمین کے عجائبات دیکھ کرتمہیں اللہ تعالی کی حکمت و قدرت کی معرفت نصیب ہو اور دنیاوی فائدہ یہ کہ دنیا کی چیزوں کو کھاو پیواور اپنے کاموں میں لاؤ جب تک اللہ تعالی کی طرف سے کوئی ممانعت نہ ہو ۔تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح اللہ تعالی کا انکار کرسکتے ہو ایک اہم قاعدہ: اس ایت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالی نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مباح و حلال ہے۔(تفسیر روح المعانی البقرۃ تحت الایۃ: ۲۹ ۱ / ۲۹۱) {و هو بكل شیء علیم:اوروہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔} کائنات کی تخلیق اور اسے وجود میں لانا اللہ تعالی کے کامل علم کی دلیل ہے کیونکہ ایسی حکمت سے بھری مخلوق کا پیدا کرنا ایک ایک شے کا علم رکھے بغیر ممکن اور متصور نہیں۔کافرمرنے کے بعد زندہ ہونے کوناممکن سمجھتے تھے ان آیتوں میں کافروں کے اس عقیدے کے غلط و باطل ہونے پر ایک عظیم دلیل قائم کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالی قدرت و علم والا ہے اور جسم حیات کی صلاحیت بھی رکھتاہے تو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا کیسے ناممکن ہوسکتا ہے