Surah Al Baqarah Ayat 3 (2:3)
The Cow · Juz 1 · Madani
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ(ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الذین یؤمنون بالغیب:وہ لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔}یہاں سے لے کر ’’المفلحون‘‘تک کی 3 آیات مخلص مومنین کے بارے میں ہیں جو ظاہری او رباطنی دونوں طرح سے ایمان والے ہیں اس کے بعد دو آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے کافر ہیں اور اس کے بعد 13 آیتیں منافقین کے بارے میں ہیں جو کہ باطن میں کافر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ ایت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا ایک وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔یعنی وہ ان تمام چیزوں پر ایمان لاتے ہیں جو ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے بارے میں خبر دی ہے جیسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاناقیامت کا قائم ہونااعمال کا حساب ہونا اور جنت و جہنم وغیرہ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لاتے ہیں۔ (مدارک البقرۃ تحت الایۃ: ۳ ص۲۰ تفسیر بیضاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۳ ۱ / ۱۱۴ ملتقطا) ایمان اور غیب سے متعلق چند اہم باتیں : اس ایت میں ’’ایمان‘‘ اور’’ غیب‘‘ کا ذکر ہوا ہے اس لئے ان سے متعلق چند اہم باتیں یاد رکھیں ! (1)…’’ایمان‘‘ اسے کہتے ہیں کہ بندہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریات دین (میں داخل) ہیں اور کسی ایک ضرورت دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں۔(بہار شریعت ۱ / ۱۷۲) (2)…’’ عمل‘‘ ایمان میں داخل نہیں ہوتے اسی لیے قران پاک میں ایمان کے ساتھ عمل کا جداگانہ ذکر کیا جاتا ہے جیسے اس ایت میں بھی ایمان کے بعدنماز و صدقہ کا ذکرعلیحدہ طور پر کیا گیا ہے۔ (3)…’’غیب ‘‘وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اورہم اپنے حواس جیسے دیکھنے چھونے وغیرہ سے اور بدیہی طور پر عقل سے اسے معلوم نہ کرسکیں۔ (4)…غیب کی دو قسمیں ہیں : (۱) جس کے حاصل ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔یہ علم غیب ذاتی ہے اوراللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اورجن آیات میں غیراللہ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں یہی علم غیب مراد ہوتا ہے ۔(۲) جس کے حاصل ہونے پر دلیل موجود ہو جیسے اللہ تعالی کی ذات و صفات گزشتہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور قوموں کے احوال نیز قیامت میں ہونے والے واقعات و غیرہ کا علم۔یہ سب اللہ تعالی کے بتانے سے معلوم ہیں اور جہاں بھی غیراللہ کیلئے غیب کی معلومات کا ثبوت ہے وہاں اللہ تعالی کے بتانے ہی سے ہوتا ہے۔(تفسیر صاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۳ ۱ / ۲۶ ملخصا) (5)…اللہ تعالی کے بتائے بغیر کسی کیلئے ایک ذرے کا علم غیب ماننا قطعی کفر ہے۔ (6)… اللہ تعالی اپنے مقرب بندوں جیسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃاللہ تعالی علیہم پر ’’غیب ‘‘کے دروازے کھولتا ہے جیسا کہ خود قران و حدیث میں ہے۔ اس موضوع پرمزید کلام سورہ ال عمران کی ایت نمبر 179 کی تفسیر میں مذکور ہے ۔ {و یقیمون الصلوة:اور نماز قائم کرتے ہیں۔}ایت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا دوسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ظاہری اور باطنی حقوق ادا کرتے ہوئے نمازپڑ ھی جائے۔نماز کے ظاہری حقوق یہ ہیں کہ ہمیشہ ٹھیک وقت پر پابندی کے ساتھ نماز پڑھی جائے اورنماز کے فرائض سنن اور مستحبات کا خیال رکھا جائے اور تمام مفسدات و مکروہات سے بچا جائے جبکہ باطنی حقوق یہ ہیں کہ ادمی دل کوغیراللہ کے خیال سے فارغ کرکے ظاہروباطن کے ساتھ بارگاہ حق میں متوجہ ہواوربارگاہ الہی میں عرض و نیاز اور مناجات میں محو ہو جائے۔(بیضاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۳ ۱ / ۱۱۵-۱۱۷ جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۳ ۱ / ۱۸ ملتقطا) نماز قائم کرنے کے فضائل اور نہ کرنے کی وعیدیں : قران مجید اور احادیث میں نماز کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے فضائل بیان کئے گئے اور نہ پڑھنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ سورہ مومنون میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ قد افلح المؤمنون(۱) الذین هم فی صلاتهم خشعون‘‘(مومنون: ۱-۲) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک(وہ) ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔ اسی سورت میں ایمان والوں کے مزید اوصاف بیان کرنے کے بعد ان کا ایک وصف یہ بیان فرمایا کہ ’’ و الذین هم على صلوتهم یحافظون‘‘(مومنون: ۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور ان اوصاف کے حامل ایمان والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’ اولىك هم الورثون(۱۰) الذین یرثون الفردوس-هم فیها خلدون‘‘(مومنون: ۱۰-۱۱) ترجمہ کنز العرفان: یہی لوگ وارث ہیں۔یہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ نماز میں سستی کرنے والوں اورنمازیں ضائع کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ان المنفقین یخدعون الله و هو خادعهم-و اذا قاموا الى الصلوة قاموا كسالى-یرآءون الناس و لا یذكرون الله الا قلیلا‘‘(النساء: ۱۴۲) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں۔ اور ارشاد فرمایا: ’’فخلف من بعدهم خلف اضاعوا الصلوة و اتبعوا الشهوت فسوف یلقون غیا(۵۹) الا من تاب و امن و عمل صالحا فاولىك یدخلون الجنة و لا یظلمون شیــٴـا‘‘(مریم: ۵۹-۶۰) ترجمہ کنزالعرفان:تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ ائے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں گے مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر اس طرح دورکعت نماز پڑھی کہ ان میں خیالات نہ انے دے تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔(بخاری کتاب الوضو ء باب الوضو ء ثلاثا ثلاثا ۱ / ۷۸ الحدیث: ۱۵۹) حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جوبھی مسلمان اچھے طریقے سے وضو کرتا ہے پھرکھڑے ہو کراس طرح دو رکعت نمازپڑھتا ہے کہ اپنے دل اور چہرے سے متوجہ ہوکر یہ دو رکعتیں ادا کرتا ہے تواس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔(مسلم کتاب الطہارۃ باب الذکر المستحب عقب الوضو ء ص۱۴۴ الحدیث: ۱۷(۲۳۴)) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے نماز پر مداومت کی تو قیامت کے دن وہ نماز اس کے لیے نور برہان اور نجات ہو گی اور جس نے نماز کی محافظت نہ کی تو اس کے لیے نہ نور ہے نہ برہان نہ نجات اور وہ قیامت کے دن قارون فرعون ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص ۲ / ۵۷۴ الحدیث: ۶۵۸۷) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے جان بوجھ کرنماز چھوڑی تو جہنم کے اس دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء ۷ / ۲۹۹ الحدیث: ۱۰۵۹۰) {و مما رزقنهم ینفقون: اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ(ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں۔}ایت کے اس حصے میں متقی لوگوں کا تیسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ اللہ تعالی کے دئیے ہوئے رزق میں کچھ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔راہ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکوۃ مراد ہے جیسے کئی جگہوں پر نماز کے ساتھ زکوۃ ہی کا تذکرہ ہے یااس سے مراد تمام قسم کے صدقات ہیں جیسے غریبوں مسکینوں یتیموں طلبہ علماء اورمساجد و مدارس وغیرہا کو دینا نیز اولیاء کرام یا فوت شدگان کے ایصال ثواب کیلئے جو خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی اس میں داخل ہے کہ وہ سب صدقات نافلہ ہیں۔ مال خرچ کرنے میں میانہ روی سے کام لیا جائے: ایت میں فرمایا گیا کہ جو ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ راہ خدا میں مال خرچ کرنے میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اتنا زیادہ مال خرچ کر دیا جائے کہ خرچ کرنے کے بعد ادمی پچھتائے اور نہ ہی خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیا جائے بلکہ اس میں اعتدال ہونا چاہئے ۔اس چیز کی تعلیم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و لا تجعل یدك مغلولة الى عنقك و لا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا‘‘(بنی اسرائیل: ۲۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ پورا کھول دو کہ پھر ملامت میں حسرت میں بیٹھے رہ جاو۔ اورکامل ایمان والوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’و الذین اذا انفقوا لم یسرفوا و لم یقتروا و كان بین ذلك قواما‘‘(فرقان: ۶۷) ترجمہ کنزالعرفان:اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تونہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔