Surah Al Baqarah Ayat 31 (2:31)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـٴُـوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔
Tafseer (Urdu)
{و علم ادم الاسمآء كلها:اور اللہ تعالی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے۔}اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام پر تمام اشیاء پیش فرمائیں اور بطور الہام کے آپ کو ان تمام چیزوں کے نام کام صفات خصوصیات اصولی علوم اور صنعتیں سکھا دیں۔(بیضاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۳۱ ۱ / ۲۸۵-۲۸۶) {انبـونی باسمآء هؤلآء: مجھے ان کے نام بتاؤ۔ }تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ تم سے زیادہ علم والی کوئی مخلوق نہیں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام اختیار استعمال کرنا کاموں کی تدبیر کرنااور عدل و انصاف کرناہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اسے اختیار دیا گیاہے اور جن کا اسے فیصلہ کرنا ہے۔ علم کے فضائل: اس ایت میں اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب’’ علم‘‘ ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے ابو ذر!رضی اللہ تعالی عنہ تمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالی کی کتاب سے ایک ایت سیکھی ہویہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہارا اس حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہوجس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہوتو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔(ابن ماجہکتاب السنۃ باب فی فضل من تعلم القران وعلمہ ۱ / ۱۴۲ الحدیث: ۲۱۹) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے اور تمہارے دین کی بھلائی تقوی (اختیار کرنے میں ) ہے۔(معجم الاوسط من اسمہ علی ۳ / ۹۲ الحدیث:۳۹۶۰) انبیاء علیہم الصلوۃوالسلام فرشتوں سے افضل ہیں : واقعہ ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام فرشتوں سے افضل ہیں اور یہ عقیدہ کئی دلائل سے ثابت ہےان میں سے 6 دلائل درج ذیل ہیں : (1)…حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اپنا خلیفہ بنایا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ ہر شخص یہ بات اچھی طرح جانتا ہے بادشاہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بڑے مرتبے والا وہ شخص ہوتا ہے جو ولایت اور تصرف میں بادشاہ کا قائم مقام ہو۔ (2)…حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام فرشتوں سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں اور جسے زیادہ علم ہو وہ افضل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: قل هل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون(زمر: ۹) ترجمہ کنزالعرفان:تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں (3)…اللہ تعالی نے فرشتوں کو یہ حکم دیاکہ وہ حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ کریں اس سے معلوم ہوا کہ وہ فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ سجدے میں انتہائی تواضع ہوتی ہے اور کسی کے سامنے انتہائی تواضع وہی کرے گا جو اس سے کم مرتبے والا ہو۔ (4)…اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ان الله اصطفى ادم و نوحا و ال ابرهیم و ال عمرن على العلمین‘‘(ال عمران: ۳۳) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور ابراہیم کی اولاد اور عمران کی اولاد کو سارے جہان والوں پر چن لیا ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو تمام مخلوقات پر چن لیا اور چونکہ مخلوقات میں فرشتے بھی داخل ہیں اس لئے ان پر بھی ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو چنا گیا لہذا وہ فرشتوں سے افضل ہوئے۔ (5)…اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’و ما ارسلنك الا رحمة للعلمین‘‘(انبیاء: ۱۰۷) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔ اور چونکہ عالمین میں فرشتے بھی داخل ہیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے لئے بھی رحمت ہوئے اور جب اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرشتوں کے لئے رحمت مطلق ہیں تو یقینا ان سے افضل بھی ہیں۔ (6)…حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے دو وزیر اسمانوں میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں۔اسمانوں میں میرے دو وزیر حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین میں میرے دو وزیر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہماہیں۔(مستدرک کتاب التفسیر من سورۃ البقرۃ ۲ / ۶۵۳-۶۵۴ الحدیث: ۳۱۰۰-۳۱۰۱) اس حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بادشاہ کی طرح ہیں اور حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام دونوں ان کے وزیروں کی طرح ہیں اور چونکہ بادشاہ وزیر سے افضل ہوتا ہے اس لئے ثابت ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرشتوں سے افضل ہیں۔(تفسیر کبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۳۴ ۱ / ۴۴۵)