Surah Al Baqarah Ayat 34 (2:34)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوریاد کروجب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔اس نے انکار کیا اور تکبرکیا اور کافر ہوگیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔
Tafseer (Urdu)
{اسجدوا لادم: آدم کو سجدہ کرو۔}اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور فرشتوں کے لیے حصول کمالات کا وسیلہ بنایاتو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم علیہ الصلوۃوالسلام کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت کا اعتراف اور اپنے مقولہ’’اتجعل فیها‘‘ کی معذرت بھی ہے۔ بہرحال تمام فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیااور ملائکہ مقربین سمیت تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور تکبر کے طور پر یہ سمجھتا رہا کہ وہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے افضل ہے اوراس جیسے انتہائی عبادت گزار فرشتوں کے استاد اور مقرب بارگاہ الہی کو سجدہ کا حکم دینا حکمت کے خلاف ہے ۔ اپنے اس باطل عقیدے حکم الہی سے انکار اور تعظیم نبی سے تکبر کی وجہ سے وہ کافر ہوگیا۔حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور ابلیس کا واقعہ قران پاک کی سات سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ سجدہ سے متعلق چند شرعی احکام: اس ایت میں سجدے کا ذکر ہے اس مناسبت سے یہاں سجدے سے متعلق چند احکام بیان کئے جاتے ہیں : (1)… سجدے کی دو قسمیں ہیں : (۱)عبادت کا سجدہ(۲) تعظیم کا سجدہ۔ ’’عبادت کا سجدہ‘‘ کسی کو معبود سمجھ کر کیا جاتا ہے اور’’ تعظیم کا سجدہ‘‘ وہ ہوتا ہے جس سے مسجود(یعنی جسے سجدہ کیا جائے اس) کی تعظیم مقصود ہوتی ہے ۔ (2)…یہ قطعی عقیدہ ہے کہ’’ سجدہ عبادت‘‘ اللہ تعالی کے لیے خاص ہے کسی اور کے لیے نہیں ہوسکتا اورنہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا۔ (3)… فرشتوں نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو تعظیمی سجدہ کیا تھا اور وہ باقاعدہ پیشانی زمین پر رکھنے کی صورت میں تھا صرف سر جھکانا نہ تھا۔ (4)… تعظیمی سجدہ پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کردیاگیا اب کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ لہذا کسی پیر یا ولی یا مزار کو تعظیمی سجدہ کرنا حرام ہے لیکن یہ یاد رہے کہ تعظیمی سجدہ کرنے والوں پر یہ بہتان باندھنا کہ یہ معبود سمجھ کر سجدہ کرتے ہیں یہ اس تعظیمی سجدہ سے بڑا جرم ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کو مشرک و کافر کہنا ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے غیراللہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے حرام ہونے پر ایک عظیم کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: ’’الزبدۃ الزکیہ فی تحریم سجود التحیہ(غیر اللہ کیلئے سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے کا بیان)‘‘یہ کتاب فتاوی رضویہ کی 22ویں جلد میں موجود ہے اور اس کا مطالعہ کرنا انتہائی مفید ہے۔ تکبر کی مذمت: اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ تکبرایسا خطرناک عمل ہے کہ یہ بعض اوقات بندے کوکفر تک پہنچا دیتا ہےاس لئے ہر مسلمان کو چاہے کہ و ہ تکبر کرنے سے بچے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تکبر حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے ۔‘‘(مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ ص۶۱ الحدیث: ۱۴۷(۹۱)) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تکبر سے بچتے رہو کیونکہ اسی تکبر نے شیطان کو اس بات پر ابھارا تھا کہ وہ حضرت اد م علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ نہ کرے۔(ابن عساکر حرف القاف ذکر من اسمہ قابیل ۴۹ / ۴۰) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ادمی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذات کو بلند سمجھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے تکبر کرنے والوں میں لکھ دیاجاتا ہےپھر اسے وہی عذاب پہنچے گا جو تکبر کرنے والوں کو پہنچا۔(ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی الکبر ۳ / ۴۰۳ الحدیث: ۲۰۰۷)