Surah Al Baqarah Ayat 43 (2:43)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔
Tafseer (Urdu)
{و اقیموا الصلوة: اور نماز قائم رکھو۔}اس سے پہلی ایات میں یہودیوں کو ایمان لانے کا حکم دیا گیاپھر انہیں حق کو باطل کے ساتھ ملانے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کے دلائل چھپانے سے منع کیا گیا اب ان کے سامنے وہ شرعی احکام بیان کئے جا رہے ہیں جو ایمان قبول کرنے کے بعد ان پر لازم ہیں چنانچہ فرمایا گیا کہ اے یہودیو! تم ایمان قبول کرکے مسلمانوں کی طرح پانچ نمازیں ان کے حقوق اورشرائط کے ساتھ ادا کرو اور جس طرح مسلمان اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرتے ہیں اسی طرح تم بھی اپنے مالوں کی زکوۃ دواور میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرو۔(تفسیرکبیر البقرۃ تحت الایۃ:۴۳ ۱ / ۴۸۵ روح البیان البقرۃتحت الایۃ: ۴۳۱ / ۱۲۱ خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۴۲ ۱ / ۴۹ ملتقطا) باجماعت نماز ادا کرنے کی اہمیت اور فضائل: اس ایت میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے کی ترغیب بھی ہے اور احادیث میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے کثیر فضائل بیان کئے گئے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔(بخاریکتاب الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ۱ / ۲۳۲ الحدیث: ۶۴۵) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام حضرت حمران رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کامل وضو کیا پھر فرض نماز کے لیے چلا اور امام کے ساتھ نماز پڑھی اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔‘‘(شعب الایمان باب العشرون من شعب الایمان وہو باب فی الطہارۃ ۳ / ۹ الحدیث: ۲۷۲۷) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اچھی طرح وضو کرکے مسجد کو جائے اورلوگوں کو اس حالت میں پائے کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو اللہ تعالی اسے بھی جماعت سے نمازپڑھنے والوں کی مثل ثواب دے گا اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔(ابو داود کتاب الصلاۃ باب فیمن خرج یرید الصلاۃ فسبق بھا ۱ / ۲۳۴ الحدیث: ۵۶۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ منافقین پر سب سے زیادہ بھاری عشا اور فجر کی نماز ہے اور وہ جانتے کہ اس میں کیا ہے تو گھسٹتے ہوئے اتے اور بیشک میں نے ارادہ کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں پھر کسی کو حکم فرماوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اپنے ہمراہ کچھ لوگوں کو جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں ان کے پاس لے کر جاوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر ان پر اگ سے جلا دوں۔(مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب فضل صلاۃ الجماعۃ۔۔۔ الخ ص۳۲۷ الحدیث: ۲۵۲(۶۵۱)) بزرگان دین کے نزدیک باجماعت نماز اداء کرنے کی اہمیت کس قدر تھی اس کا اندازہ ان دو حکایات سے لگایا جا سکتا ہے: (1)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ایک باغ کی طرف تشریف لے گئے جب واپس ہوئے تو لوگ نماز عصر ادا کر چکے تھے یہ دیکھ کر اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے انا لله و انا الیه رجعون پڑھا اور ارشاد فرمایا :’’میری عصر کی جماعت فوت ہو گئی ہے لہذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرا باغ مساکین پر صدقہ ہے تاکہ یہ اس کام کا کفارہ ہو جائے۔(الزواجرعن اقتراف الکبائر باب صلاۃ الجماعۃ الکبیرۃ الخامسۃوالثمانون۱ / ۳۱۱) (2)…حضرت حاتم اصم رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :’’ایک مرتبہ میری با جماعت نماز فوت ہو گئی تو حضرت ابو اسحاق بخاری رحمۃاللہ تعالی علیہ کے علاوہ کسی نے میری تعزیت نہ کی اور اگر میرا بچہ فوت ہو جاتا تودس ہزار ( 10,000) سے زیادہ افراد مجھ سے تعزیت کرتے کیونکہ لوگوں کے نزدیک دینی نقصان دنیوی نقصان سے کم تر ہے۔(احیاء علوم الدین کتاب اسرارالصلاۃ ومہماتھا الباب الاول فی فضائل الصلاۃ والسجود۔۔۔ الخ ۱ / ۲۰۳) اللہ تعالی سب مسلمانوں کو با جماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین