Surah Al Baqarah Ayat 45 (2:45)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور صبر اور نماز سے مددحاصل کرو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و استعینوا بالصبر و الصلوة:اور صبر اور نماز سے مددحاصل کرو۔}اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی ایات میں بنی اسرائیل کوسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے ان کی شریعت پر عمل کرنے سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س ایت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے اسان ہو جائے گا بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الہی کے حصول اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۴۵ ۱ / ۵۰) سبحان اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالی سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔ {انها لكبیرة الا على الخشعین: بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔} ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ گناہوں اور خواہشات سے بھرے ہوئے دلوں پر نماز بہت بوجھل ہوتی ہے اور عشق و محبت الہی سے لبریز اور خوف خدا سے جھکے ہوئے دلوں پر نماز بوجھ نہیں بلکہ نماز ان کیلئے لذت و سرور اور روحانی و قلبی معراج کا سبب بنتی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب عزوجل سے ملاقات پر یقین رکھتے ہیں اور اس مولی کریم کے دیدار کی تڑپ رکھتے ہیں۔ اس میں بشارت ہے کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدار الہی کی نعمت نصیب ہو گینیزاللہ تعالی سے ملاقات اور اس کی طرف رجوع میں ترغیب و ترہیب دونوں ہیں اور ان دونوں کو پیش نظر رکھنا نماز میں خشوع پیدا ہونے کا ذریعہ ہے گویا نماز میں خشوع و خضوع قائم رکھنے کا حکم بھی دیا اور اس کے حصول کا طریقہ بھی بتادیا۔